اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 23 of 155

اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 23

23 میری تو زندگی اور موت کلیتًا خدائے رب العالمین کی ہو چکی ہے۔اللہ تعالیٰ نے جب یہ فرمایا کہ اے محمد ! میں تجھے بتاتا ہوں کہ میرا منشاء ہے کہ دین میں آزادی ہو اور کسی کو زبردستی مومن نہ بنایا جائے تو " أَفَأَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ“ کا کلمہ کسی ناراضگی کا کلمہ نہیں بلکہ پیار کا کلمہ ہے۔ہم خوب جانتے ہیں کہ تو اب ایسی بات کر نہیں سکتا کیونکہ تجھے ہمارا منشاء معلوم ہو چکا ہے۔اور دوسری طرف تمام ان مسلمانوں کے لئے جو بعد کی نسلوں میں آنے والے تھے یہ اعلان تھا کہ اب اگر تم نے دین میں جبر کے عقیدے کی اشاعت کی اور اس کی تلقین کی تو یاد رکھو کہ اللہ اور محمد مصطفی ﷺ کے واضح وعدے اور منشاء کے خلاف ایسا کرو گے، اس کے مطابق کبھی ایسا نہیں کرو گے۔چوتھی آیت پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَذَكِّرُ ۖ إِنَّمَا أَنْتَ مُذَكَّرَهُ لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَّيْطِرٍة إِلَّا مَنْ تَوَلَّى وَكَفَرَهُ فَيُعَذِّبُهُ اللهُ الْعَذَابَ الْأَكْبَرَه (الغاشية: ۲۲ تا ۲۵) کہ اے محمد! تو تو نصیحت کرنے والا ہے۔پس نصیحت کرتا چلا جا، تو ان لوگوں پر داروغہ مقرر نہیں ہے۔یعنی اگر کوئی ایمان نہ لایا تو جس طرح داروغے کی حفاظت میں چیزیں دی جاتی ہیں اور کوئی چیز ضائع ہو جائے تو اس کی جواب طلبی ہوتی ہے ہم ہرگز تیری جواب طلبی نہیں کریں گے۔یہاں داروغہ نہیں ہے“ کا مطلب یہ ہے کہ اگر چہ ہم نے تمام بنی نوع انسان کی ہدایت کے لئے تجھے مقررفرمایا