اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 127
127 ”ہمارے لئے یہ ممکن ہی نہیں اور تمہارے لئے بھی یہ ممکن نہیں۔دلوں پر صرف ایک صاحب اختیار کا اختیار ہے اور وہ خدا تعالیٰ ہے۔جب تک ہمارا رب نہیں چاہے گا کہ ہم واپس اس خیال کی طرف لوٹ آئیں جسے چھوڑ کر ہم نکلے ہیں، اس وقت تک ہمارے قبضہ قدرت میں نہیں ہے کہ ہم وہ بات مان جائیں جو تم ہم سے منوانا چاہتے ہو۔آج کی دنیا کے قبضہ قدرت میں وہ باتیں کیسے آ گئیں جو اس زمانہ کے نبی وقت کے قبضہ قدرت میں نہ تھیں؟ نہ اس زمانہ کے مخالفین کے قبضہ قدرت میں تھیں۔صرف اللہ کے قبضہ قدرت میں تھیں۔یقیناً آج بھی خدا ہی ہے جو دلوں کا مالک ہے اور اس کے تسلط کے سوا دل ہر گز بدل نہیں سکتے۔حضرت موسی پر فرعونیوں کا الزام حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ بھی ان کی قوم اور اس وقت کے فرعون نے یہی سلوک کیا۔چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے کہ نہ صرف یہی سلوک کیا بلکہ اس ظلم میں حد سے زیادہ بڑھ گئے اور نئے نئے طریق ایذا دہی کے ایجاد کئے۔ایسی باتیں جو پہلے انبیاء کے مخالفین کے تصور میں بھی نہیں آئی تھیں وہ بھی فرعون کو سوجھیں اور ہر قسم کے مظالم اس بنا پر ان پر روا ر کھے کہ وہ اس کے نزدیک اس کی قوم کو مرتد بنا رہے تھے۔چنانچہ قرآن کریم بیان فرماتا ہے: فَلَمَّا جَاءَهُمْ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوا اقْتُلُوا أَبْنَاءَ الَّذِينَ ول امَنُوْا مَعَهُ وَاسْتَحْيُوا نِسَاءَهُمْ وَمَا كَيْدُ الْكُفِرِيْنَ إِلَّا فِي ضَللٍ وَقَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُونِي أَقْتُلْ مُوسَى وَلَيَدْعُ رَبَّهُ اِنّى أَخَافُ أَنْ يُبَدِّلَ دِينَكُمْ أَوْ أَنْ يُظْهِرَ فِي