اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 128 of 155

اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 128

128 الْأَرْضِ الْفَسَادَ وَقَالَ مُوسَى إِنِّي عُذْتُ بِرَبِّ وَرَبَّكُمْ مِنْ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا يُؤْمِنُ بِيَوْمِ الْحِسَابِ 0 (المؤمن : ۲۶ تا ۲۸) جب موسیٰ فرعون اور اس کی قوم کی طرف حق کے ساتھ آیا جو ہماری طرف سے اسے عطا ہوا تھا تو انہوں نے کہا کہ انہی کو ہی نہیں ان کے بیٹوں کو بھی قتل کرو۔اقْتُلُوا ابْنَاءَ الَّذِينَ امَنُوْا مَعَهُ“ میں ”معه“ جو ہے وہ ایمان سے بھی متعلق ہو سکتا ہے یعنی ان لوگوں کے بیٹے جو اس کے ساتھ ایمان لائے ہیں اور اقتلوا سے بھی متعلق ہو سکتا ہے یعنی اس کے ساتھ اور اس کے ساتھیوں کے ساتھ ان کی اولادکو بھی قتل کرو۔یہ دونوں مفہوم ثابت ہیں کیونکہ اگلی آیت بتا رہی ہے کہ حضرت موسی کے قتل کا بھی انہوں نے فیصلہ کیا تھا۔چنانچہ انہوں نے کہا کہ اسے ہی قتل نہ کرو ان کی اولادوں کو بھی قتل کر دو۔وہ بھی قتل مرتد کے حکم میں آتی ہیں۔اور آج بعینہ یہ آواز پاکستان کے علماء کی طرف سے احمدیوں کے خلاف اٹھائی جا رہی ہے۔پس تعجب کی کوئی بات نہیں کیونکہ قرآن فرماتا ہے کہ حق کے مخالفین ہمیشہ ایسی ہی تدبیریں سوچا کرتے ہیں۔پھر کہا: وَاسْتَحْيُوا نِسَاءَ هُمُ کہ ان کی عورتوں کو زندہ رکھو یعنی ذلیل کرنے کے لئے، رسوا کرنے کے لئے۔فرمایا : وَمَا كَيْدُ الْكَفِرِينَ إِلَّا في ضَللٍ کہ کفار کی تدبیر سوائے رسوائی اور ناکام ہونے کے اور کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔گمراہی میں بھٹکنے والی ایک تدبیر ہے جس کا کوئی نتیجہ بھی نہیں نکلے گا۔پھر بتایا که فرعون نے کہا " ذَرُونِی اَقْتُلْ مُوسى وَلْيَدْعُ رَبَّه» میں موسی کو کیوں نہ قتل کر دوں وہ پھر بلاتا پھرے اپنے رب کو۔دیکھتے ہیں کہ کس طرح اس کا رب