اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 126
126 اور تجھ پر ایمان لانے والوں کو اپنی بستی سے نکال دیں گے سوائے اس کے کہ تم ہماری ملت میں واپس لوٹ آؤ۔یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تو ارتداد اختیار کر جائے اور ہم تجھے بغیر سزا کے چھوڑ دیں! حضرت شعیب نے کیسا ہمیشہ زندہ رہنے والا جواب دیا کہ کیا اس کے باوجود بھی تم ہم پر زبردستی کرو گے کہ تم جانتے ہو کہ ہمارے دل تمہارے دین سے متنفر ہو چکے ہیں؟ وہ جب تمہارے دین کے قائل ہی نہیں رہے تو تمہاری زبردستی ہمارے دلوں میں تمہارا دین داخل کر ہی نہیں سکتی۔جو ترکیب نہ حضرت شعیب کو معلوم تھی اور نہ آپ کی قوم کو معلوم تھی کہ زبر دستی کس طرح دلوں میں دین داخل کیا جاتا ہے وہ آج کے علماء کو معلوم ہوگئی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ زبر دستی تلوار کے زور سے اگر اپنی ملت میں لوٹ آنے کا ہم مطالبہ کریں تو یہ بالکل جائز اور معقول ہے، عین اسلام اور قرآن کے مطابق ہے اور عقل کے مطابق ہے۔ان کے اس تو ہم کا جواب حضرت شعیب کی زبان سے سنیئے۔فرماتے ہیں۔قَدِ افْتَرَيْنَا عَلَى اللَّهِ كَذِبًا إِنْ عُدْنَا فِي مِلَّتِكُمُ کہ اگر جبر اور موت کے ڈر سے یا گھروں سے نکالے جانے کے خوف سے ہم تمہاری ملت میں لوٹ آئیں گے تو ہم اللہ پر افترا کرنے والے ہوں گے۔تو کیا اسلام اس بات کا حکم دیتا ہے کہ جو محض مولویوں کے تصور اسلام کے قائل نہیں رہے ان سے اور بھی بڑا جرم کرواؤ ؟ انہیں اللہ پر افترا کرنے والا بنا دو۔پھر فرماتے ہیں: