اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 117
117 جرم میں مصلوب کئے گئے کہ ان کا قرآن کریم کے متعلق یہ عقیدہ تھا کہ یہ مخلوق ہے۔لیکن جب دور بدلا اور ایسا شخص خلافت کی مسند پر بیٹھا جس کا خود اپنا عقیدہ یہ تھا کہ قرآن کریم مخلوق ہے تو اس نے ایسے تمام علماء کو قتل کرنے کا حکم جاری کیا جو قرآن کریم کو مخلوق نہیں سمجھتے تھے۔مسلمان بزرگوں کے خون گلیوں میں بہتے رہے اس جرم میں کہ وہ مرتد ہو گئے ہیں اور مرتد کی سزا قتل ہے۔اور ارتداد کی دلیل صرف اتنی تھی کہ انہوں نے قرآن کریم کو اللہ تعالیٰ کی تنزیہی صفات کے پیش نظر مخلوق قرار دیا۔یہ اتنا بھیا نک ظالمانہ دور ہے۔مگر یہ صرف ایک دور نہیں بلکہ کثرت سے ایسے واقعات نہایت ظالمانہ طور پر اسلامی حکومتوں کے چہرے پر ایک ایسا کلنک کا ٹیکہ لگاتے ہیں کہ جسے دیکھ کر آج بھی آزاد دنیا اسلام اور اسلام کے ماننے والوں سے نفرت اور حقارت کرتی ہے اور اسلام کو ایک جاہلانہ تار یک ماضی کا مذہب قرار دیتی ہے۔آج یہ علماء اس سے کوئی سبق حاصل نہیں کر رہے۔ان کو کوئی شرم نہیں آتی۔زبر دستی قرآن اور سنت کے خلاف عقیدے اسلام کی طرف منسوب کرتے چلے جاتے ہیں اور اسلام کی تاریخ کو خون آلود کر تے چلے جاتے ہیں۔لیکن ملاں کے منہ کو جو خون لگ چکا ہے یہ خون اس منہ سے اب اترنے والا نہیں ہے۔آج بھی اگر عالم اسلام کو ہوش نہ آئی اور ملاں کی بالا دستی کو رد کر کے ردی کی ٹوکری میں نہ پھینکا گیا اور اسے مجبور نہ کیا گیا کہ تم دینی معاملات کو سیاست سے الگ رکھو اور دین اسلام پر ظلم سے باز آ جاؤ۔۔۔صرف تقویٰ کی تعلیم دو اور نمازوں اور عبادتوں کی تعلیم دو، اگر ایسا نہ کیا گیا تو وہ ماضی کی بھیانک تاریخ پھر دہرائی جائے گی۔اور اس کے پیچھے بڑی بڑی حکومتیں ہیں جو چاہتی ہیں کہ ایسا ہو۔وہ چاہتی ہیں کہ مسلمان مسلمان کی چھری سے ہلاک ہو اور اسلام عالم اسلام کی چھری سے ہلاک ہو۔