اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 116
116 وہاں قتل مرتد کا عقیدہ اٹھایا جا رہا ہے اور یہ ظالم یہ چاہتے ہیں کہ مسلمان ہماری طرف رخ کرنے کی بجائے ایک دوسرے کی گردنیں کاٹیں اور جانتے ہیں کہ ان کمز ور حکومتوں کو جو ہماری امداد پر پلتی ہیں، جو ہم سے روٹی مانگ کر کھاتے ہیں اور ہم سے ہتھیار لیتے ہیں جرات نہیں ہوگی کہ کسی ہندو، کسی عیسائی، کسی یہودی کو قتل کریں۔ہاں ! اگر ان کی بجلی گرے گی تو صرف مسلمانوں کے سر پر گرے گی۔اگر یہ گردنیں کاٹیں گے تو صرف مسلمانوں کی کاٹیں گے۔ہر فرقہ دوسرے فرقہ کو مرتد قرار دے گا اور ہر فرقہ جس کا زور چلے گا وہ دوسرے مرتد فرقے کو قتل کرتا چلا جائے گا۔اسلام میں ایک کہرام برپا ہو جائے گا اور ایسے مذہب پر ساری دنیا لعنت ڈالے گی اور ان لوگوں پر جن میں یہ بھیانک عقیدے چل رہے ہیں اور جو اس طرح اپنے دوسرے بھائیوں کے خون مباح سمجھتے ہیں اور ایک دوسرے کو قتل کرتے چلے جاتے ہیں۔یہ ہے اس سازش کا خلاصہ۔پرانا مشغلہ اس سے پہلے یہ کھیل کھیلا جا چکا ہے۔یہ کوئی فرضی بات نہیں ہے۔عملاً عالم اسلام میں اس سے پہلے جہاں جہاں بھی ملانوں کا اسلامی حکومتوں پر قبضہ ہوا ہے یا ظالم اسلامی حکومتوں نے مسلمان علماء کو استعمال کیا ہے، وہاں قتل مرتد کے نام پر اتنا بھیا نک کھیل کھیلا جا چکا ہے کہ اس کے تصور سے آج بھی انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔عباسی بادشاہ مامون اور اس کے بعد کے زمانہ کے چند واقعات میں آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔نہایت راستباز ، خدا ترس، نیک اور عالم مسلمان محض اس