اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 107
107 ހﷲ فَيَخْتَصُّ بِمَنْ يَتَأْتَى مِنْهُ الْحِرَابُ، وَهُوَ الْرَّجُلُ، وَلِهَذَا نَهَى النَّبِيُّ الله عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ۔۔۔۔۔و لِهَذَا قُلْنَا : لَوْ كَانَتِ الْمُرْتَدَّةُ - ذَاتَ رَأْي وَ تَبَعِ تُقْتَلُ، لَا لِرِدَّتِهَا، بَلْ لِأَنَّهَا حِينَئِذٍ تَسْعَى فِي الْأَرْضِ بِالْفَسَادِ شرح فتح القدير على الهداية لمحمد بن عبد الواحد المعروف بابن الهمام۔طبع اول۔القاهرة۔شركة البابی الحلبی۔۱۹۷۰ء الجزء السادس كتاب السير باب احكام المرتدين۔صفحه: ۷۲) یعنی مرتد کو صرف اس صورت میں قتل کیا جانا چاہئے جب اس کی طرف سے جنگ کے خطرے کو ٹالنا مقصود ہو نہ کہ محض کفر اختیار کرنے کے بناء پر کیونکہ کفر اختیار کرنے کی سزا خدا کے نزدیک اس سے بہت بڑھ کر ہے۔لہذا صرف ایسے مرتد کو قتل کیا جائے گا جو محارب ہو جو عموماً مرد ہوتا ہے نہ کہ عورت۔اسی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی عورتوں کے قتل سے منع فرمایا ہے۔۔۔۔ور اسی بناء پر ہمارے نزدیک اگر مردہ عورت اثر و رسوخ اور جتھہ رکھنے والی ہو تو وہ قتل ہوگی۔اپنے ارتداد کی وجہ سے نہیں بلکہ زمین میں فساد پھیلانے کی وجہ سے۔دلیل پنجم اسی طرح امام البا برقی (متوفی ۷۸۶ ہجری) فرماتے ہیں: د قتل صرف جنگ کرنے کی بناء پر کیا جائے گا کیونکہ محض کفر کرنے پر کسی کو قتل کرنا جائز نہیں۔اسی وجہ سے اندھے اور گھر میں پڑے ہوئے اور پیر فرتوت کو قتل نہیں کیا جاتا۔(شرح فتح القدير على الهداية الجزء السادس كتاب السير باب احكام المرتدين صفحه ۷۴ )