اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 106
106 وَلاَنَّ الْاَصْلَ تَاخِيُرُ الْأَجْزِيَةِ إِلى دَارِ الْآخِرَةِ، إِذْ تَعْجِيلُهَا يُخِلُّ بِمَعْنَى الْإِبْتِلاءِ، وَ إِنَّمَا عُدِلَ عَنْهُ دَفْعًا لِشَرِّ نَاجِرٍ وَ هُوَ الْحِرَابُ وَلَا يَتَوَجَّهُ ذَلِكَ مِنَ النِّسَاءِ لِعَدْمِ صَلَاحِيَّةِ الْبِنْيَةِ بِخِلَافِ الرجال - ( الهداية في شرح بداية المبتدى لعلى بن ابى بكر المرغيناني۔الجزء الثاني۔كتاب السير باب احكام المرتدين صفحه : ۴۰۶، ۴۰۷۔داراحیاء التراث العربي بيروت ، لبنان) یعنی مرتد ہ عورت کو قتل نہ کرنے کی دو وجوہ ہیں۔ایک یہ کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔دوسرے یہ کہ سزا کا اصل یہ ہے کہ اس کو آخرت پر چھوڑ دیا جائے کیونکہ اس دنیا میں جلدی سے سزا دے دینا آزمائش کرنے کے اصول میں خلل اندازی ہے۔اور اس قاعدہ سے جو عدول کیا گیا ہے تو وہ صرف پیدا ہونے والے شر کو روکنے کی غرض سے ہے اور وہ شر حراب یعنی جنگ ہے۔اور چونکہ عورتوں میں مردوں کے برعکس اپنی خلقت کی وجہ سے جنگ کی قابلیت نہیں ہوتی اس لئے ان کو قتل کیا ہی نہیں جاتا۔دلیل چهارم اسی طرح ایک بہت بڑے فقیہ فتح القدیر“ کے مصنف امام ابن الهمام ( متوفی ۶۸۱ ہجری) فرماتے ہیں:۔۔۔۔۔يَجِبُ فِى الْقَتْلِ بِالرِّدَّةِ أَنْ يَكُونَ لِدَفْعِ شَرِّ حِرَابِهِ، لَا جَزَاءً عَلَى فِعْلِ الْكُفْرِ، لِاَنَّ جَزَاءَ هُ اَعْظَمُ مِنْ ذَلِكَ عِنْدَ اللهِ تَعَالَى