اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 79 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 79

و نوٹ : الف۔اگر کوئی متوفیہ خاوند ، والدہ اور دادا اور ثاء چھوڑے تو ان کے حصے یہ ہوں گے۔÷ = (++)-1 = = = خاوند کا حصہ والدہ کا حصہ دادا کا حصہ یعنی جائداد کے ۶ سہام کئے جائیں تو خاوند کا ۳ ، والدہ ۲ اور دادا ایک حاصل کرے گا۔ب اگر کوئی متوفی صرف دادا اور دادی وارث چھوڑے تو پھر دادی کا حصہ ۱/۶ ہوگا اور دادا کا ۵/۶ اگر دادی دادا کے درجہ کی نہیں بلکہ کسی اوپر کے درجہ کی ہے تو پھر وہ محروم ہوگی اور تمام جائداد دادا ہی حاصل کرے گا۔۳۔شوہر کا حصّہ شوہر بھی اپنی بیوی کے ترکہ سے کبھی محروم نہیں ہوتا۔اس کے حصہ کی صرف دو صورتیں ہیں۔الف۔اگر بیوی کے بطن سے اولاد ہو تو شوہر کو ترکہ کا ۱/۴ حصہ ملے گا۔اگر بیوی کی اولاد نہیں تو شوہر کو بیوی کے ترکہ کا ۱/۲ حصہ ملتا ہے۔نوٹ :۔بیوی کی اولا د خواہ پہلے خاوند سے ہو یا موجودہ خاوند سے ہو۔اولا دموجود ہونے کی صورت میں موجودہ خاوند کو ۴ / ۱ حصہ ملے گا۔یہ اولاد ( بیٹا، بیٹی، پوتا، پوتی وغیرہ) خواہ کسی بھی خاوند سے ہو موجودہ خاوند کو۱/۴ حصہ ہی ملے گا۔۔اسی طرح کسی خاتون کے وہی بچے میراث سے حصہ لے سکیں گے جو کہ اس کے اپنے بطن سے ہوں۔سوتیلے بچے اور بچیاں اس کے ترکہ سے حصہ نہ پاسکیں گے۔مثال نمبر ۶ : ایک متوفیہ نے خاوند، والد اور ایک بیٹا چھوڑے ہر ایک کا حصہ بتائیے۔خاوند کا حصہ = ۱/۴ کیونکہ بیٹا موجود ہے۔1/4 = والد کا حصہ