اسلام کا وراثتی نظام — Page 80
۸۰ باقی = بیٹے کا حصہ = = # = ۲۳ -۱=( + ) - ۱ ۱۲ اس لئے اگر جائداد کے کل ۱۲ سہام کئے جائیں تو تین خاوند کے دو والد کے اور سات بیٹے کے ہوں گے۔اسی طرح اگر کسی متوفیہ نے خاوند والدہ اور والد چھوڑے ہوں تو خاوند کا حصہ والدہ کا حصہ = = (1- { )کا = والد کا حصہ = 4 x = ا - = یعنی اگر جائداد کے ۶ حصے کریں تو خاوند کو تین ، والدہ کو ایک اور والد کو دو حصے ملیں گے۔۴۔اخیافی بھائی کا حصہ اخیافی (مادری) بھائی انہیں کہا جاتا ہے جو صرف والدہ کی طرف سے اشتراک رکھتے ہوں یعنی جن کی ماں تو ایک ہو والد مختلف ہوں ایسے بھائی بھی ذوالفروض میں شامل ہیں اور انہیں اس وقت میراث سے حصہ دیا جاتا ہے جب نہ میت کی اصل میں سے کوئی زندہ ہو اور نہ ہی فرع میں سے یعنی نہ تو میت کا باپ، دادا، پڑدادا وغیرہ کوئی زندہ ہو اور نہ ہی بیٹا، پوتا، بیٹی، پوتی وغیرہ کوئی موجود ہو اس لئے اگر باپ، دادا، پڑدادا، یا بیٹا، بیٹی، پوتا، پوتی میں سے کوئی بھی موجود ہو تو پھر یہ بھائی میراث سے محروم رہیں گے۔لیکن اگر ان میں سے کوئی بھی موجود نہ ہو تو پھر دوصورتیں ہیں۔الف۔اگر صرف ایک اخیافی بھائی (یا ایک اخیافی بہن ) ہو تو وہ میت کے ترکہ سے چھٹا (۱/۶) حصہ حاصل کرے گی۔اگر اخیافی بھائی ایک سے زیادہ ہوں خواہ یہ صرف اور صرف بھائی ہوں یا بہن بھائی ہوں یا صرف بہنیں ہوں تو انہیں کل ترکہ کا ثلث (۱/۳) دیا جائے گا۔جس میں یہ تمام بھائی یا بہنیں یا بہن بھائی برابر کے شریک ہوں گے۔اس تقسیم میں مرد اور عورت کی تمیز نہیں کی جاتی بلکہ یہ اخیافی بہن بھائی ۱/۳ حصہ میں برابر کے