اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 78 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 78

۷۸ حصہ = ۸۰۰۰ × ۱/۲=۴۰۰۰ روپے ۸۰۰۰ روپے والد کا حصہ میت کی بیوی کی کل رقم = ۲۰۰۰ + ۴۰۰۰ ( حق مہر ) = ۲۰۰۰ روپے ۲۔دادا کا حصہ اگر میت کے والد زندہ ہوں تو دادا کو کوئی حصہ نہیں دیا جاتا۔کیونکہ دادا کی نسبت باپ زیادہ قریب ہے اس لئے والد کی موجودگی میں دادا کو کسی قسم کا وراثتی حق حاصل نہیں ہے۔جب والد زندہ نہ ہو تو دادا کو مکمل حقوق بینہ اسی طرح حاصل ہیں۔جس طرح کہ والد کو اور وہ (دادا) اتنے ہی حصے کا وارث ہوتا ہے جتنے کا والد یعنی اگر میت کی نرینہ اولاد ہو تو باپ کی طرح ۱/۶حصہ کا مالک دادا ہو گا اگر نرینہ اولا د نہ ہو تو ۱/۶ حصہ جو اس نے بطور ذوی الفروض حاصل کرنا ہے۔اس کے علاوہ باقی بچا ہوا مال بھی باپ کی طرح دادا حاصل کرے گا۔متذکرہ بالا مشق (ج) یعنی تیسری صورت میں کچھ تھوڑا سا فرق ہے۔ماں کو باقی جائداد کا ثلث نہیں بلکہ کل جائداد کا ثلث دیا جاتا ہے۔اس طرح ماں کو قدرے زیادہ اور دادا کو قدرے کم ملتا ہے۔مثال نمبر ۵ : ایک متوفی نے والدہ ایک بیوی اور دادا ورثاء چھوڑے اس کے ترکہ میں ان کے حصے بتائیے۔یہاں باپ کی بجائے دادا وارث ہے اس لئے والدہ کو کل جائداد کا ۱/۳ حصہ ملے گا۔والدہ کا حصہ بیوی کا حصہ 1/F= 1/8= باقی = 1- ( + ) =۱- ۳۴ = دادا کا حصہ ہے۔=( ÷ یعنی اگر جائداد کے بارہ سہام کئے جائیں تو والدہ کے۴، بیوی کے ۳ اور دادا کے پانچ سہام ہوں گے۔