اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 62 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 62

۶۲ تقسیم ہوگا۔1/1= نعیم کی والدہ کا حصہ = ۱/۲ باقی = 1 - ا = ۵/۶ حصہ عصبات یعنی دونو بیٹوں اور دونو بیٹیوں میں ۱:۲ کی نسبت۔ہوگا۔اس لئے محمد وسیم محمد حلیم میں سے ہر ایک کا حصہ = 2 × = = 2 محمد ادریس اور محمد لقمان جو متوفی محمد نعیم کے پوتے ہیں اپنے دادا کی میراث سے محروم رہیں گے البتہ اپنے اپنے والد محمد کریم اور محمد سلیم کے ترکہ کے وارث ہوں گے۔نوٹ: بعض اماموں اور دوسرے مصنفوں نے اختلاف دارین کو بھی مانع وراثت قرار دیا ہے یعنی مختلف ممالک میں رہائش رکھنے والے ورثا ء اپنے مورث کے ترکہ سے محروم ہو جاتے ہیں۔حضرت امام شافعی اختلاف دارین کو مطلقاً مانع میراث قرار نہیں دیتے۔دراصل اختلاف ممالک کوئی مانع میراث نہیں۔جائداد کا حصہ وارث کو ایک ملک سے دوسرے ملک میں بآسانی پہنچایا جا سکتا ہے۔سوائے اس کے کہ متعلقہ ممالک میں ہر قسم کے سفارتی تعلقات ختم ہو چکے ہوں اور وہ ایک دوسرے سے برسر پیکار ہوں لیکن بظاہر آج کل ایسی صورت حالات کہیں نظر نہیں آتی کیونکہ دنیا اس ترقی یافتہ سائنسی دور میں ایک خاندان کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔وہ زمانہ گیا جبکہ انسان اپنے ہی ملک میں سفر کرنے کے لئے کئی کئی مہینے پیدل چلتے تھے۔اب ایک ملک سے دوسرے ملک میں جانا ہر لحاظ سے نہایت سہل ہو چکا ہے۔علاوہ ازاں سفیروں کے ذریعہ یہ کام بہت آسان ہو جاتا ہے ایک وارث جو ایران بیٹھا ہو اپنے مورث کی جائداد سے جو انگلستان میں فوت ہوا ہو اپنے ملک کے سفیر کے ذریعے اپنا حصہ وصول کر سکتا ہے۔اسی سلسلہ میں ایک حوالہ تنویر الحواشی فی توضیح سراجی صفحہ ۱۳ سے درج ذیل ہے۔اختلاف دارین کی علامت یہ ہے کہ دو ملک کے بادشاہ الگ الگ سلطنت میں اور مستقل فوج ولشکر کے ساتھ ایک دوسرے سے آمادہ جنگ و پیکار رہتے ہوں۔کسی کی آبرو اور جان محفوظ نہ ہو، لیکن اگر دو مختلف ملک ہونے کے باوجود آپس میں صلح اور معاہدہ ہو تو اسے ایک ہی ملک مان کر آپس کی وراثت جاری رکھی جائے گی۔“