اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 63 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 63

۶۳ اس لئے موجود دور میں اختلاف دارین بظاہر مانع میراث قرار نہیں پاتا۔حجب ترکہ کی تقسیم کے بارے میں کچھ ضوابط اور قیود مقرر ہیں۔مختلف درجوں میں ایک متوفی کے بہت سے وارث ہو سکتے ہیں ان وارثوں کے حصوں کے بارے میں آئندہ ہم پڑھیں گے کہ بعض رشتہ داروں کی موجودگی میں دوسرے ورثاء کے حصہ میں یا تو کمی آ جاتی ہے یا وہ بالکل محروم رہ جاتے ہیں۔ایسے رشتہ داروں کو جو کسی دوسرے رشتہ داروں کی وجہ سے محروم ہو جاتے ہیں یا کسی قسم کی ان کے حصوں میں کمی آجاتی ہے علم وراثت میں محبوب کہا جاتا ہے۔حجب کے لفظی معنی روک کے ہیں۔حجب کی دو اقسام ہیں۔حجب حرمان حجب نقصان ا۔حجب حرمان یہ ہے کہ ایک وارث کسی دوسرے وارث کو کلیتا اس کے حصہ سے محروم کر دے۔مثلاً اگر متوفی کا کوئی بیٹا زندہ ہو تو وہ متوفی کے ہر قسم کے بہن بھائیوں کو محروم کر دے گا۔۲۔حجب نقصان یہ ہے کہ ایک وارث کی موجودگی کی وجہ سے دوسرے وارث کے حصہ میں کمی ( نقصان ) پیدا ہو جائے۔مثلاً۔اگر خاوند کی کی کوئی اولا دکسی بیوی سے بھی موجود ہو تو بیوی کا حصہ سے 4 ہو جاتا ہے۔اسی طرح خاوند کا حصہ پا سے رہ جاتا ہے اگر وفات یافتہ بیوی کی کوئی اولاد ہو خواہ موجودہ خاوند سے ہو یا پہلے کسی خاوند سے ظاہر ہے کہ اس حجب کی زد میں وہ رشتہ در آئیں گے جو کبھی بھی میراث سے کلیۂ محروم نہیں کئے جا سکتے البتہ حالات کے مطابق اُن کے حصے کم و بیش ہوتے رہتے ہیں۔حجب کا اصول یہ ہے کہ الا قرب ابعد کو محجوب کرتا ہے۔یعنی قریب تر بعید ترکو ترکہ سے محروم کر دیتا ہے۔الاقرب ثم الاقرب کے اصول پر عمل کیا جاتا ہے۔مثلاً بیٹا تمام پوتے اور پوتیوں کو محروم کر دیتا ہے۔باپ دادا کو ، دادا پڑدادا کو ( وعلی ہذا القیاس ) محجوب کرتے ہیں۔