اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 61 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 61

۶۱ مصارف و ادا ئیگی دین و وصیت بمطابق احکام شریعت تقسیم ہو گا۔چنانچہ ملا حظہ ہو۔عَنْ رَبيْعَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِّنْ عُلَمَائِهِمْ أَنَّهُ لَمُ يَتَوَارَتْ مَنْ قُتِلَ يَوْمَ الْجَمَلِ وَيَوْمَ صِفِّينٍ وَّ يَوْمَ الْحَرَّةِ ثُمَّ كَانَ يَوْمَ قُدَيْدٍ فَلَمْ يُوْرَت اَحَدٌ مِّنْهُمْ مِّنْ صَاحِبِهِ شَيْئًا إِلَّا مِنْ عُلِمَ أَنَّهُ قُتِلَ قَبْلَ صَاحِبِهِ (موطا امام مالک کتاب الفرائض ) ربیعہ بن عبدالرحمن اور بعض علماء سے مروی ہے کہ جنگ جمل، جنگ صفین اور جنگ 7ہ میں جو لوگ قتل ہوئے انہیں دوسرے کے ورثاء میں شریک نہیں کیا گیا تھا۔پھر جنگ قدید ہوئی تب بھی اس جنگ میں مرنے والوں میں سے ) کوئی شخص اپنے (مرنے والے ساتھی کا وارث نہ بنایا گیا۔سوائے اس شخص کے جس کے متعلق معلوم ہو گیا ک وہ اپنے ساتھی (وارث) سے پہلے قتل ہوا تھا۔یعنی ایسے مقتول کا کوئی وارث اگر ان جنگوں میں شامل تھا اور یہ ثابت ہو گیا تھا کہ وہ وارث اپنے مورث سے بعد قتل ہوا تو اسے مقتول مورث کے ترکہ میں اپنے حصہ دیا گیا۔مثال: ایک شخص محمد نعیم کے رشتہ داروں میں والدہ ، چار بیٹے ، دو پوتے دو بیٹیاں اور ایک زوجہ موجود ہیں۔محمد نعیم مع اپنی بیوی اور دو بیٹوں محمد کریم اور محمد سلیم کے دریا پار کر کے اپنے سُسرال جانا چاہتا ہے۔دو بیٹے محمد وسیم اور محمد حلیم اور دو پوتے محمد اور میں ابن محمد کریم اور محمد لقمان ابن محمد سلیم اور دو بیٹیاں اپنی والدہ کے پاس چھوڑ جاتا ہے۔اچانک دوران سفر دریا میں حادثہ پیش آ جانے سے محمد نعیم اس کی زوجہ اور دونو بیٹے محمد کریم اور محمد سلیم فوت ہو گئے۔اب محمد نعیم کی بیوی اور یہ دونوں بیٹے محمد نعیم کے ترکہ میں وارث نہیں ہوں گے۔محمد کریم محمد سلیم محمد وسیم محمد حلیم رقیه محمد اور لیس محمد لقمان زنیب اور ترکہ اب نعیم کی والدہ، دو بیٹوں ( محمد سلیم اور محمد حلیم ) اور دو بیٹیوں ( رقیہ اور زینب ) میں