اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 55 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 55

۵۵ ہو کر ختم ہو جاتی ہے اور باقی کچھ نہیں بچتا۔اگر ذوی الفروض کو دینے کے بعد کچھ بچتا تو وہ عصبہ کو ملتا ہے۔اس مثال میں کچھ بچتا ہی نہیں۔اس لئے بھیجا یا چا جو بھی موجود ہو محروم رہے گا۔مثال نمبر ۲: ایک متوفی نے زوجہ، دو بیٹیاں، والدہ اور ایک بھائی چھوڑا۔بعد منہائی ضروری مصارف وادائیگی وصیت و قرضہ اگر اس کی جائداد ۲۴۰۰ روپے ہو تو ہر ایک کا حصہ بتائیے۔حل زوجہ، دو بیٹیاں ، والدہ ذوی الفروض ہیں اور بھائی عصبہ ہے۔اس لئے ذوی الفروض کے حصے یہ ہوں گے۔زوجہ کا حصہ = دو بیٹیوں کا حصہ والدہ کا حصہ باقی = 1 - $ + F + - ) ۲/۳ ہر ایک کا حصہ ۱/۳ = 1/4 = = pr-1 = 1+17+1 -1 = ۲۴ ۲۴ ذوی الفروض کو دینے کے بعد جو یہ (۱/۲۴ حصہ ) بچا ہے یہ عصبہ کا حصہ ہے اور ۱/۸ × ۲۴۰۰ = = ۳۰۰ روپے بھائی کو ملے گا جو عصبہ ہے۔اس لئے ۲۴۰۰ روپے میں بیوی کا حصہ اس لئے ۲۴۰۰ روپے میں ایک بیٹی کا حصہ = ۲۴۰۰ × ۱/۳= ۸۰۰ روپے اس لئے ۲۴۰۰ روپے میں دوسری بیٹی کا حصہ = ۲۴۰۰ × ۱/۳ = ۸۰۰ روپے اس لئے ۲۴۰۰ روپے میں والدہ کا حصہ ۲۴۰۰ × ۱/۲ = ۴۰۰ روپے اس لئے ۲۴۰۰ روپے میں بھائی کا حصہ ۲۴۰۰ × ۱/۲۴ = ۱۰۰ روپے مثال نمبر ۳ : ایک متوفی نے اپنے پیچھے ۴ بھانجے ۵ لڑکے اور لڑکیاں چھوڑیں۔اگر اس کا ترکہ بعد منہائی ضروری مصارف وادائیگی وصیت و غیره ۱۴۰۰ روپے ہو تو ہر ایک کا حصہ بتائیے۔اس مثال میں لڑکے اور لڑکیاں عصبات میں شامل ہیں۔بھانجے ذوی الارحام ہیں۔عصبات کے ہوتے ہوئے ذوی الارحام کو کچھ نہیں ملا کرتا یعنی یہ ( ذوی الارحام)