اسلام کا وراثتی نظام — Page 56
محروم رہتے ہیں اس لئے جائداد تمام کی تمام عصبات میں تقسیم ہو گی اس طرح کہ ہر لڑکے کو لڑکی سے دگنا حصہ ملے یا یوں سمجھئے کہ حصوں کے لحاظ سے ایک لڑکا دولڑکیوں کے برابر ہوتا ہے۔اس طرح اس جائداد کے کل ۱۴ سہام ( حصے ) ہوں گے جن میں سے ہر لڑکے کو دوسہام اور ہرلڑکی کو ایک سہم ملے گا۔اس لئے ۱۴۰۰ روپے میں ہر ایک لڑکے کا حصہ = ۱۴۰۰ × ۲/۱۴ = ۲۰۰ روپے ۱۴۰۰ روپے میں ہر ایک لڑکی کا حصہ = ۱۴۰۰ × ۱/۱۴ = ۱۰۰ روپے نوٹ : اگر کسی متوفی کے تمام ورثاء صرف ذوی الفروض ہی ہوں ) اور عصبہ کوئی نہ ہو ) تو اُن کو اُن کے مقررہ حصے دینے کے بعد اگر کچھ باقی بچ جاوے تو وہ بھی ان ذوی الفروض کے درمیان ان کے شرعی حصوں کی نسبت کے لحاظ سے تقسیم کر دیا جاتا ہے (ماسوائے زوج یا زوجہ کے جنہیں قابل رق مال میں سے کوئی حصہ نہیں ملتا ) مسئلہ رو کا مفصل بیان آگے آئے گا۔البتہ اگر والد بھی زندہ ہو جو ذوی الفروض میں شامل ہے اور تمام ذوی الفروض کو (بشمول والد ) اُن کے مقررہ حصے دینے کے بعد کچھ ترکہ بیچ رہے۔تو پھر والد (اپنے مقررہ حصے کے علاوہ باقی بچا ہوا ترکہ بھی بطور عصبہ حاصل کرے گا۔زوج اور زوجہ کے ساتھ اگر والد کے علاوہ متوفی کا کوئی عصبہ ہو تو باقی ماندہ تمام تر کہ اس کا حق ہے۔ہاں اگر زوج یا زوجہ کے ساتھ (والد کے بغیر ) ایک سے زیادہ ذوی الفروض موجود ہوں تو باقی ماندہ تر کہ ان ورثاء میں ان کے حصوں کے تناسب کے لحاظ سے تقسیم کر دیا جائے گا، لیکن اگر زوج یا زوجہ کے ساتھ کوئی دوسرا ذوی الفروض یا عصبہ موجود نہیں۔ذوی الارحام میں سے کوئی وارث موجود ہے تب زوج یا زوجہ کا حصہ نکالنے کے بعد باقی ماندہ ترکہ ذوی الارحام میں تقسیم کر دیا جائے گا۔گویا ذوی الفروض کی موجودگی میں ذوی الارحام کو صرف اسی صورت میں حصہ مل سکتا ہے جبکہ متوفی کا وارث صرف زوج یا زوجہ ہو اور دوسر کوئی ذوی الفروض یا عصبہ موجود نہ ہو۔مثال نمبر ۴ : ایک متوفی نے زوجہ، دونو ا سے اور تین نواسیاں چھوڑیں اگر اس کا ترکہ قابل تقسیم مابین ورثا ء ۸۰۰۰ روپے ہو تو ہر ایک کا حصہ بتائیے؟ حل زوجہ کا حصہ / =