اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 54 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 54

۵۴ غرض مسلمان متوفی کی متروکہ جائداد میں سے مصارف تجہیز و تکفین قرض اور وصیت کی ادائیگی کے بعد سب سے پہلے ذوی الفروض کو ان کے مقررہ حصے دیئے جاتے ہیں۔اس کے بعد اگر کچھ بیچ رہے تو وہ عصبات میں تقسیم کیا جاتا ہے۔اس طرح ذوی الفروض اور عصبات کی موجودگی میں ذوی الارحام کو متوفی کے ترکہ سے کچھ بھی نہیں ملتا۔البتہ صرف اور صرف ایک صورت ہے جس میں ذوی الفروض کے ساتھ ذوی الارحام کو بھی حصہ مل جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ عصبات میں سے کوئی فرد موجود نہ ہو۔اور ذوی الفروض میں سے صرف متوفی کی زوجہ یا متوفیہ کا خاوند زندہ ہو۔ان تمام صورتوں کو آسان اور عام فہم امثال سے واضح کیا جاتا ہے۔مثال نمبر 1: ایک متوفیہ نے والدہ، دو اخیافی بہنیں اور شوہر وارث چھوڑے۔اگر اس کا ترکہ بعد از ادائیگی وصیت و غیره ۶۰۰۰ روپے ہو تو ہر ایک کا حصہ بتائیے۔حل متوفیہ کے تمام وارث والدہ ، اخیافی بہنیں اور شوہر ذوی الفروض ہیں۔1/4 = ۱/۲ = = اس لئے والدہ کا حصہ خاوند کا حصہ دوا خیافی بہنوں کا حصہ اس طرح ذوی الفروض کا کل حصہ = + = P+r+1 ( یعنی پوری جائداد ذوی الفروض میں ہی تقسیم ہوگئی ) = = 1/4 ۶ × ۶۰۰۰ = 1/4 ۱۰۰ روپے ۶۰۰۰ روپے میں والدہ کا حصہ ۶۰۰۰ روپے میں ہرا خیافی بہن کا حصہ = ۲۰۰۰ × ۱/۲ = ۱۰۰۰ روپے = = ۳۰۰۰ رویی ۶۰۰۰ روپے میں خاوند کا حصہ نوٹ : اگر والده اخیافی بہنوں اور شوہر کے ساتھ اس متوفیہ کا کوئی بھتیجا یا چچا وغیرہ بھی ہوتے جن کا شمار عصبات میں ہوتا ہے تو وہ محروم رہتے۔کیونکہ جائداد ذوی الفروض میں تقسیم