اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 292 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 292

۲۹۲ لڑکا اپنے تین بیٹے چھوڑ کر والد کی زندگی میں ہی فوت ہو گیا جائداد چونکہ مشترکہ ہے اس لئے پوتے اپنے دادا کی کفالت میں آگئے چند سال کے بعد دادا بھی فوت ہو گئے اب چا تمام جائداد کا وارث بن گیا۔جس کے واسطہ سے اس کا اپنا بیٹا تمام جائداد کا وارث بن جائے گا۔اب اگر چا یہ سوچے کہ اس کی وفات کے بعد جائدادا گر چار پوتوں میں تقسیم ہو تو اس کے اپنے بیٹے کو صرف ۱/۴ملے گا۔اور یتیم بھتیجے کل جائداد کا ۳/۴ حاصل کر لیں گے۔اس لئے وہ تمام جائداد کا کل وارث خود بن جائے گا اور جائداد اپنے نام کروا لے گا تا کہ اس کی وفات کے بعد اُسی کا بیٹا وارث ہو۔اس کے مقابلہ پر یہ تینوں یتیم پوتے سوچیں گے کہ چچا کے ہوتے ہوئے ان کے دادا کے ترکہ میں سے تو کیا اُن کے باپ کے ترکہ میں سے بھی انہیں حصہ نہیں ملے گا۔کیونکہ جائداد مشتر کہ تھی اور ہے۔اور ان کے باپ کی کمائی بھی اس میں جاتی رہی ہے۔اس لئے وہ اپنا حق حاصل کرنے کے لئے ہر طریق بروئے کار لانے کے لئے سوچیں گے اور کوشش کریں گے کہ اگر چچا کو قتل کر دیا جائے تو پھر اس طرح وہ وارث قرار پا جائیں گے۔اور جائداد کا ۳/۴ یعنی بڑا حصہ حاصل کریں گے۔سو یتیم پوتوں کو میراث سے محروم کرنے کی وجہ سے خاندانی طور پر بد نتائج کا سخت خطرہ ہے۔اس لئے ان سے بچنے کے لئے یتیم پوتوں کو ان کا حق ضرور دے دینا چاہئے۔مسئلہ کا صحیح اور شرعی حل مخالف اور موافق دلائل اس لئے درج کئے گئے ہیں کہ مسئلہ کا ہر پہلو اجاگر ہو جائے اور اس کی شدت اور ضرورت کا احساس ہو جائے۔اس امر کا فیصلہ کرنا کہ یتیم پوتا وارث ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو کتنے حصہ کا ہے اس کتاب کا مقصد نہیں۔یہ کام مجلس افتاء کا ہے۔سچ تو یہ ہے کہ اگر یتیم پوتے کو اپنے باپ کا قائم مقام بنا کر حصہ دے بھی دیں تو بھی یتامی کے مسائل حل نہیں ہو جاتے عام حالات میں تھوڑا سا سرمایہ یا جائداد کا کچھ حصہ ہی ملے گا۔جو معاشی لحاظ سے والد کی کمی کو پورا نہیں کر سکتا۔اگر ہم قرآن کریم سے اس مسئلہ کا حل تلاش کریں تو ہمیں یہ آیات رہنمائی کے لئے ملتی ہیں۔