اسلام کا وراثتی نظام — Page 293
۲۹۳ وَ إِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُوا الْقُرْبَى وَالْيَتْمَى وَالْمَسْكِينُ فَارْزُقُوهُمْ مِنْهُ وَقُولُوالَهُمْ قَوْلًا مَّعُرُوفًا۔(النساء:9) اور جب (ترکہ کی) تقسیم کے وقت (دوسرے ) قرابت دار اور یتیم اور مسکین ( بھی ) آجائیں تو اس میں سے کچھ انہیں ( بھی ) دے دو اور انہیں مناسب ( اور عمدہ) باتیں کہو۔“ " وَلْيَخْشَ الَّذِينَ لَوتَرَكُوا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّيَّةً ضِعفًا خَافُوا عَلَيْهِمْ فَلْيَتَّقُوا اللهَ وَلْيَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا (النساء :١٠) 66 اور جو لوگ ڈرتے ہوں کہ اگر وہ اپنے بعد کمزور اولا د چھوڑ گئے تو اس کا کیا بنے گا۔ان کو ( دوسرے تیموں کے متعلق بھی اللہ کے ڈر سے کام لینا چاہئے کہ وہ صاف اور سیدھی بات کہیں۔“ ان قرآنی ارشادات کی روشنی میں یتیم پوتا کسی دوسرے کی نسبت رحم کا زیادہ مستحق ہے سو اس حکم کی اطاعت کرتے ہوئے دادا کو چاہئے کہ وہ اپنے یتیم پوتے یا پوتوں کے حق میں جائداد کے کچھ حصہ کی وصیت کر دے اور اگر ممکن ہو تو انہیں اتنا حصہ ضرور دیا جائے کہ وہ اس کی وفات کے بعد بے یار و مددگار نہ رہ جائیں اگر بالفرض دادا ان کے حق میں وصیت کرنے سے پہلے فوت ہو گیا ہو۔یا جائداد کی مالیت کم ہو تو پھر چچاؤں کو چاہئے کہ وہ قرآن کے ارشاد کے مطابق خدا تعالیٰ کا خوف کرتے ہوئے ان یتیموں کی گذر اوقات کے لئے ضروری انتظام کریں۔نیز کتب علیکم الوصیة کے مطابق حکومت یہ قانون بنا دے کہ مستحق یتیم پوتوں کے امکان حصہ کی حد تک بہر حال دادا کی وصیت ثابت شدہ متصور ہو گی چاہے دادا کو وصیت کرنے کا موقع ملا ہو یا نہ ملا ہو۔اس طرح سے یہ مسئلہ اپنی ہر انفرادی صورت میں باحسن وجوہ طے ہو جاتا ہے۔یتامی کو باپ کا قائمقام بنا کر جائداد سے حصہ دلانے سے بعض بڑی جائداد والوں کے لئے تو شائد یہ مشکل حل ہو جائے۔لیکن عام طور پر صرف ترکہ سے حصہ دلانے سے یتامی کی ضرورت پوری نہیں ہو سکتیں۔مثلاً فرض کیجئے کہ ایک شخص نے زوجه، والدہ، تین بیٹے اور تین بیٹیاں زندہ چھوڑیں۔ان کے علاوہ اس کے دو یتیم پوتے ہیں۔جن کا والد اس کی زندگی میں ہی وفات پا گیا تھا۔اب اگر ان یتیم پوتوں کو ان کے والد