اسلام کا وراثتی نظام — Page 157
۱۵۷ ۱/۴ (بطور ذوی الفروض کے ) 2 = ( ½ + ½ ) - 1 = = زوجہ کا حصہ باقی یه (۱۲/ ۵ حصہ) نزدیکی عصبات میں تقسیم ہو گا۔حقیقی چا بہ نسبت علاتی چچا کے میت نزدیک ہے اس لئے علاقی چا محروم ہوں گے لہذا پانچ حقیقی چچاؤں کا حصہ ہر ایک چچا کا حصہ ۵/۱۲ = x یعنی اگر جائداد کے بارہ سہام کئے جائیں تو ۴ والدہ کے ،۳ بیوی کے اور ایک ہر حقیقی چا کا ہوگا۔مثال نمبر ۲۹: ایک میت نے صرف ایک بہن اور ایک چا زاد بھائی وارث چھوڑے ہر ایک کا حصہ اور حیثیت بتاؤ۔حقیقی بہن کا حصہ باقی = ۱/۲ (بطور ذوی الفروض کے ) = 1/5 = 1/5 - 1 جو چچا زاد بھائی کا حصہ بطور عصبہ ہوگا کیونکہ کوئی اور عصبہ موجود نہیں۔مثال نمبر ۳۰ : ایک میت نے زوجہ ، بیٹی ، چچا اور حقیقی بھائی کا پوتا وارث چھوڑے ہر ایک کا حصہ بتاؤ۔= = زوجہ کا حصہ بیٹی کا ح باقی = ا -( + ) = 1 - =F یہ (۳/۸ حصہ ) عصبات میں تقسیم ہو گا۔حقیقی بھائی کا پوتا تیسرے درجہ کا عصبہ ہے جب کہ چچا چوتھے درجہ کا عصبہ ہے اس لئے چچا محروم رہے گا۔لہذا بھائی کے پوتے کا حصہ = ٣/٨ گویا اگر جائداد کے ۸ سہام کئے جائیں تو ایک زوجہ کا ہم بیٹی کے اور تین بھائی کے پوتے کے ہوں گے۔