اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 156 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 156

۱۵۶ الفروض کو ان کے حصے دینے کے بعد کچھ نہیں بچتا۔اس لئے حقیقی ہمشیرہ محروم رہے گی۔نوٹ : حقیقی بہن کی غیر موجودگی میں علاتی بہن اس کی قائم مقا ہوتی ہے اور یہ مختلف حالات میں انہی حصوں کی حقدار ہوگی جن کی حقیقی بہن حقدار ہوتی ہے۔حقیقی بہن کے ساتھ بہن عصبہ نہ ہوگی بلکہ علاتی بھائی کے ساتھ ہی عصبہ قرار پائے گی۔اس لئے ان کے لئے علیحدہ مثالیں بیان کرنے کی ضرورت نہیں اصولی طور پر یوں سمجھ لیجئے کہ حقیقی بھائی کا قائمقام علاقی بھائی اور حقیقی بہن کی قائم مقام علاتی بہن ہوتی ہے۔مثال نمبر ۲۷: ایک میت نے ایک حقیقی بہن ، دو علاتی بہنیں ، دو بھتیجے اور والدہ وارث چھوڑے ہر ایک کا حصہ بتاؤ۔والدہ کا حصہ = = حقیقی بہن کا حصہ دو علاقی بہنوں کا حصہ اس لئے ایک علاقی بہن کا حصہ /۱ (بطور ذوی الفروض ) ۱/۲ (بطور ذوی الفروض ) = = /۱ (بطور ذوی الفروض ) ۱/۱ (بطور ذوی الفروض ) باقی = 1- (+ + + + + ) = =1+1+1 −1 =( ++ +++)−1 + = ۳++++ یہ باقی حصہ عصبات میں جو یہاں دو بھتیجے ہیں برابر برابر تقسیم ہوگا۔اس لئے ہر بھتیجے کا حصہ 1/15 = گویا اگر جائداد کے ۱۲ سہام کئے جائیں تو والدہ کو دوسہام، حقیقی بہن کو چھ سہام ہر علاتی بہن کو ایک سہم اور ہر بھتیجے کو ایک سہم ملے گا۔مثال نمبر ۲۸: درجہ چہارم کے عصبات ایک میت نے زوجہ، والدہ اور پانچ بچے حقیقی اور دو علاقی بھائی چھوڑے ہر ایک کا حصہ بتاؤ۔والدہ کا حصہ = ۱/۳ (بطور ذوی الفروض کے ) کیونکہ میت کی اولاد اور دو بہن بھائی بھی نہیں )