اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 53 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 53

۵۳ بیوی زندہ ہوں اور کوئی ایسا رشتہ دار زندہ نہ ہو جو عصبہ ہو تو خاوند یا بیوی کو اس کا مقررہ حصہ دینے کے بعد جو کچھ باقی بچے وہ ذوی الارحام کو دیا جاتا ہے۔کیونکہ مسئلہ رڈ کی صورت میں (جس کا ذکر آگے آئے گا) خاوند یا بیوی کو ان کے مقررہ حصہ کے علاوہ قابل رد مال میں سے اور کچھ نہیں دیا جاتا۔مختصر آیا درکھیئے کہ خاوند یا بیوی با وجود ذوی الفروض ہونے کے ذوی الارحام کی توریث میں مانع نہیں ہوتے۔جبکہ وہ متوفی کے تنہا وارث ہوں۔ذوی الارحام کی تفصیل اور ان کی اقسام باب ہشتم میں ملاحظہ فرمائیے۔جد صحیح اس سے مراد وہ وارث مرد ہیں کہ ان کے اور متوفی کے درمیان کوئی عورت واسطہ نہ ہو۔مثلاً دادا، پڑدادا، سکٹر دادا، علی ہذا القیاس۔(اس سلسلہ کے تمام دادا اجداد صحیح کہلاتے ہیں ) جد فاسد اس سے وہ وارث از قسم ذکور مراد ہیں کہ ان کے اور متوفی کے درمیان کوئی عورت واسطہ ہو مثلاً نانا، پڑنا نا، سکڑنا نا علی ہذا القیاس۔(اس سلسلہ کے تمام نا نا اجداد فاسد کہلاتے ہیں ) جده صحیحه اس سے مراد وہ وارث عورتیں ہیں کہ ان کے اور متوفی کے درمیان کوئی جد فاسد واسط نہ ہو۔مثلاً دادی، نانی ، پڑدادی، پڑنانی سکٹر دادی وغیرہ۔جده فاسده اس سے مرادہ وہ وارث عورتیں ہیں کہ ان کے اور متوفی کے درمیان کوئی جد فاسد داخل ہو۔مثلاً نانا کی ماں ، جدہ فاسدہ ہے۔جد فاسد اور جدہ فاسدہ کی تعریف میں عورت کا لفظ اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ جد فاسدہ اور جدہ فاسد تمام ذوی الارحام میں شامل ہوتے ہیں۔