اسلام کا وراثتی نظام — Page 52
۵۲ بھائی کا بیٹا ہے بھانجا عصبہ نہیں کیونکہ میت کی بہن کا بیٹا ہے یعنی اس کی وراثت میں عورت کا واسطہ ہے۔اسی طرح بھتیجی عصبہ نہیں کیونکہ وہ خود عورت ہے بھا نجی یا نواسی وغیرہ بھی عصبہ نہیں کیونکہ بھی عورتیں ہیں اور ان کے اور میت کے درمیان واسطہ بھی عورت کا ہے۔البتہ اگر مرد عصبہ کے کوئی عورت بھی شامل ہو تو وہ (عورت) بھی اس مرد کی وجہ سے عصبہ بن جاتی ہے (اسے عصبہ بالغیر کہتے ہیں ) مثلاً اگر میت کے بیٹے کے ساتھ اس کی بیٹی بھی موجود ہو تو پھر یہ بیٹی بھی بیٹے کے ساتھ (جو کہ عصبہ ہے ) عصبہ بن جاتی ہے۔اگر میت کا کوئی بیٹا نہیں تو پھر اس کی بیٹی یا بیٹیاں بھی عصبہ نہیں بنیں گی بلکہ بمطابق حالات اپنا مقررہ حصہ حاصل کریں گی اور ذوی الفروض میں شمار ہوں گی۔ترکہ میں عصبات کا کوئی معین حصہ مقرر نہیں بلکہ ذوی الفروض کو ان کے مقررہ حصے دینے کے بعد جو کچھ بچ جاتا ہے وہ عصبات حاصل کرتے ہیں۔ان کا تفصیلی ذکر ا گلے باب میں ملاحظہ فرمائیے۔ذوی الارحام ذوی الارحام میت کے وہ رشتہ دار ہیں جن کا تعلق میت سے کسی عورت کے واسطہ سے ہو یا وہ خود ایسی عورت یا عورتیں ہوں جو ذوی الفروض میں یا عصبات میں شامل نہ ہو سکیں۔گویا میت کے وہ تمام نسلی قرابت دار جو نہ ذوی الفروض میں شامل ہوں اور نہ عصبات میں۔ذوی الارحام کہلاتے ہیں۔مثلاً نواسہ، بھانجا، نواسی، بھانجی، پھوپھی بھیجی وغیرہ سب ذوی الارحام ہیں۔ان کے اور میت کے درمیان عورت کا واسطہ ہے یا پھر وہ خود عورتیں ہیں یا ان میں سے بعض میں دونوں شرطیں پائی جاتی ہیں۔یعنی واسطہ بھی عورت کا ہے اور خود بھی عورتیں ہیں اور ان میں سے کوئی بھی ذوی الفروض یا عصبات میں شامل نہیں۔لیکن بیٹی، پوتی ، بہنیں بے شک بذات خود تو عورتیں ہیں ، لیکن ذوی الارحام نہیں کیونکہ حسب حالات یہ سب یا تو ذوی الفروض میں شامل ہو جاتی ہیں یا عصبات میں۔ا۔شریعت اسلام میں ذوی الارحام کا کوئی حصہ مقرر یا معین نہیں ہے۔یہ لوگ میت کی جائداد کے اس وقت وارث بنتے ہیں۔جب نہ تو میت کے ذوی الفروض میں سے کوئی زندہ ہوں اور نہ ہی عصبات میں سے ، البتہ اگر ذوی الفروض میں سے صرف خاوند یا