اسلام کا وراثتی نظام — Page 282
۲۸۲ نہایت ہی غریب رہ جاتا ہے۔زندہ چچا اور ان کی اولا دیں تو اس جڑی جائداد پر داد عیش حاصل کر رہی ہیں اور یہ یتیم بھتیجے اپنی گزر اوقات کے فکر میں در بدر کی ٹھوکریں کھاتے پھرتے ہیں۔اس مسئلہ کی اہمیت مختلف خاندانوں میں مختلف انداز سے شدت اختیار کرتی ہے۔یہ مسئلہ کوئی فرضی یا جذباتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک حقیقی اور سنجیدہ مسئلہ ہے اور اس امر کا متقاضی ہے کہ پوری متانت اور توجہ سے اس کا حل تلاش کیا جائے خصوصاً ہمارے معاشرہ میں ایسے حالات سے اکثر واسطہ پڑتا ہے۔اس لئے ہر قسم کے تعصبات سے ہو کر نہایت ٹھنڈے دل کے ساتھ اس معاملہ پر غور کرنا چاہئے عام لوگوں نے یتیموں کے حقوق ادا کرنے میں مروجہ اسلامی قانون وراثت کو ایک روک سمجھ رکھا ہے۔حالانکہ اسلام نے یتیموں کے حقوق کے بارے میں بڑی شدت سے تاکید فرمائی ہے۔معاندین اسلام اور خود بعض کم علم مسلمان بھی اس مسئلہ کی آڑ لے کر اسلامی نظام وراثت پر بے جا اعتراض کرتے ہیں۔اس لئے ضروری ہے کہ اس مسئلہ پر سیر حاصل بحث کی جائے اور پتہ لگایا جائے کہ وہ کون سی نصوص ہیں جس پر اس مسئلہ کی بنیاد ہے۔آئیے سب سے پہلے ہم اس معاملہ کے دوسرے رُخ پر بھی نظر ڈالیں۔جہاں یتیم پوتوں کے مندرجہ بالا حالات متصور ہو سکتے ہیں وہاں یہ بھی ممکن ہے کہ کسی وقت چا بھی بے کسی ، کسمپرسی اور غربت کی حالت میں گزر بسر کر رہے ہوں اور اپنے باپ کی کمائی کی وجہ سے پوتے خوشحال ہوں۔اگر ایک آدمی کے بعض بچے بہت چھوٹے ہوں تو وہ بڑھاپے کی وجہ سے اس چھوٹی اولاد کی نگہداشت اس انداز سے یا اس حد تک نہیں کر پاتا جتنی کہ وہ پہلی یا بڑی اولاد کی کرتا تھا۔جب کہ وہ جوان اور توانا تھا۔اس لئے اگر بوڑھا دادا فوت ہو جائے جس کے چند ایک چھوٹے بیٹے بھی ہوں اور اس کی جو تھوڑی بہت جائداد ہو اس میں بھی بڑے بیٹے کے یتیم مگر زیادہ خوشحال بیٹے حصہ دار بن بیٹھیں تو پھر ان بیچاروں ( یتیم چاؤں) کو نہ ملنے کے برابر ہی حصہ ملے گا غرضیکہ جس طرح متوفی بیٹے کے یتیم رہ جانے والے بیٹوں کے حالات قابل رحم ہو سکتے ہیں۔اسی طرح متوفی باپ کے یتیم رہ جانے والے چھوٹے بیٹوں کے حالات بھی قابل رحم ہو سکتے ہیں اس لئے کسی حسابی قاعده یا گلیہ کے ذریعہ جو تمام ورثاء پر یکساں طور پر حاوی ہو۔ان مشکلات کا حل کیا جانا مشکل نظر آتا ہے، لیکن جو تعلق اشتراک