اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 283 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 283

۲۸۳ اور محبت قدرت نے دادا، بیٹے ، پوتے اور دوسرے رشتہ داروں کے درمیان ودیعت کر رکھی ہے وہ متقاضی ہے کہ کوئی ایسی مؤثر وجہ ضرور موجود ہو جس کی بناء پر اسلامی شریعت میں یتیم پوتے اپنے دادا کے ترکہ سے محروم سمجھے جاتے ہیں۔اس لئے اس مسئلہ پر دونوں پہلوؤں سے بحث کی جائے گی کہ کن دلائل سے یتیم پوتا دادا کی میراث سے محروم رہ سکتا ہے اور کن دلائل کی رو سے میراث کا حقدار قرار دیا جا سکتا ہے۔یتیم پوتوں کی محرومی کے دلائل : پہلی دلیل جو بطور بنیاد اس سلسلہ میں پیش کی جاتی ہے وہ حضرت ابن عباس کی یہ روایت که رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اَلْحِقُو الْفَرَائِضَ بِاَهْلِهَا فَمَا بَقَى فَهُوَ لَا وَلَى رَجُلٍ ذَكَرٌ۔(صحیح بخاری، کتاب الفرائض۔ترکہ کا بیان) یعنی ذوی الفروض کو حصہ دینے کے بعد جو کچھ باقی بچے وہ اس مرد رشتہ دار کو دیا۔جائے جو عصبی رشتہ کے لحاظ سے متوفی کے سب زیادہ قریب ہو۔مثلاً ایک میت کے رشتہ دار اس کا ایک بیٹا ، والدہ ، ایک زوجہ، ایک پوتا اور ایک بھائی موجود ہوں تو اس میت کے ترکہ کی تقسیم اس طرح ہو گی۔کہ ذوی الفروض کو ان کے حصے ( یعنی والدہ کو ۱/۶ حصہ اور زوجہ کو ۱/۸ حصہ) دینے کے بعد جو باقی بچے وہ بیٹے کو دے دیا جائے یعنی اس صورت میں ۱۷/۲۴ حصہ بیٹے کو ملے گا اور بھائی اور پوتا دو نو محروم رہیں گے۔کیونکہ بیٹا بھائی کی نسبت متوفی کا زیادہ نزد یکی رشتہ دار ہے بیٹا میت کا اپنا جز ہے۔بھائی میت کے والد کا جز ہے پس بیٹا درجہ اول کا عصبہ ہے اور بھائی درجہ دوم کا ، اس لئے بیٹے کے مقابلے میں محروم رہے گا۔گویا عصبات میں قریب ترین رشتہ دار کے ہوتے ہوئے دُور کا رشتہ دار ترکہ سے محروم رہتا ہے۔اسی طرح ظاہر ہے کہ بیٹے اور پوتے میں سے بھی بیٹا زیادہ قریبی رشتہ دار ہے بیٹا اور پوتا ایک ہی درجہ کے عصبات یعنی میت کے جز ہیں، لیکن بیٹے کی قوت قرابت پوتے کی نسبت زیادہ ہے۔اس لئے اگر کسی میت کا بیٹا زندہ ہے تو اس کے فوت شدہ بیٹے کی اولاد یعنی میت کے یتیم پوتے اپنے دادا کے ترکہ سے حصہ نہیں پاسکتے۔۔