اسلام کا وراثتی نظام — Page 281
۲۸۱ باب یاز دہم دادا کے ترکہ میں یتیم پوتے کی میراث اسلامی قانونِ وراثت میں ، یتیم پوتا اپنے چا یا چاؤں کی موجودگی میں خواہ وہ حقیقی ہوں یا علاقی اپنے دادا کے ترکہ سے کیوں محروم رہتا ہے یہ ایک نہایت ہی اہم اور ضروری سوال ہے جس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ایک شخص جس کے چند بیٹے بیٹیاں ہیں اس کے بیٹوں میں سے اگر کوئی بیٹا فوت ہو جائے اور اپنے پیچھے ایک یا زیادہ بیٹے یتیم چھوڑ جائے تو دادا کے فوت ہونے پر یہ یتیم پوتے جن کا کفیل باپ کے بعد صرف اور صرف دادا ہی تھا وہ اپنے دادے کے ترکہ سے کیوں حصہ نہ پائیں اور سارا مال ان کے چچا کیوں لے جائیں حالانکہ ان کے چچاؤں کی نسبت ان یتیم پوتوں کو اس مال کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔بچا تو عموماً جوان اور مضبوط ہونے کی بنا پر اپنی روزی خود کما سکتے ہیں۔لیکن یہ کم عمر اور کمزور پوتے دادا کے ورثہ کے شدید محتاج ہوتے ہیں۔پھر بھی انہیں خالی ہاتھ چھوڑ کر تمام جدی جائداد چچاؤں کے حوالہ کر دی جاتی ہے۔اگر ان یتیموں کا والد زندہ رہتا اور دادا کے بعد فوت ہوتا تو پھر اپنے والد کے توسط سے یہ یتیم پوتے بھی اس جدی جائداد سے حصہ پاتے جس کے مالک اب ان کے چا ہیں۔گویا اس طرح انہیں تین صد مے دیکھنے پڑے۔اول اپنے کفیل والد کی وفات دوم : والد کے بعد اپنے دادا کی وفات سوم دادا کی وفات کے بعد اس کے ترکہ سے بکلی محرومی۔: یہ محرومی اور بھی شدت اختیار کر جاتی ہے کہ جب کسی خاندان میں جدی جائداد کا رواج ہو۔یعنی سب دا دا، باپ بیٹے وغیرہ اکٹھے کام کرتے ہوں اور جائداد مشتر کہ ہو۔اگر درمیان میں کسی بیٹے کا انتقال ہو جائے تو یتیم پوتے دادا کی وفات کے بعد اس کے ترکہ سے مکمل طور پر محروم رہ جاتے ہیں اور ان کے زندہ چچا اس تمام جائداد کے وارث بن جاتے ہیں جس جائداد کے فراہم ہونے میں ان کے والد کی کمائی بھی شامل ہے۔اس طرح سے ایک ہی خاندان میں افراط و تفریط پیدا ہو جاتی ہے۔ایک حصہ بہت امیر ہو جاتا ہے دوسرا