اسلام کا وراثتی نظام — Page 245
۲۴۵ ورثاء ایک حقیقی بھائی اور دوحقیقی بہنیں ہیں اس لئے ۱۳۱ میں ایک بھائی کا حصہ = ۲۸۸ ۱۲۱ اس لئے میں ایک بہن (متوفی کی ہر بیٹی ) کا حصہ ۲۸۸ ۱۲۱ = ✓ ✓ ۱۲۱ ۴ ۲۸۸ لہذا یہاں تک پہلی بیوی کے بطن سے زندہ بیٹے کا حصہ ۱۲۱ = = 1x ۱۲۱ = ۱۱۵۲ ۲۸۸ ۱۲۱ - ۲۸۸ ۱۲۱+ ۱۱۵۲ ۱۲۱ = ۵۷۶ ۲۱ + = ۱۲۱ = ۵۷۶ ۱۱۵۲ ۱۱۵۲ اور ہر بیٹی کا حصہ ۴۔دوسری بیوی کی متوفیہ بیٹی کا قابل تقسیم حصہ ۷۷۲ ہے اور اس کے ورثاء اس کی والدہ ، دو علاتی بہنیں اور ایک علاتی بھائی ہے۔اس لئے ۷۲ ۷ حصہ میں سے والدہ (متوفی کی زوجہ ثانی) کا حصہ باقی == ☑ = ۴۳۲ ۳۵ 1 = 1/4 - 41= ۴۳۲ ۴۳۲ ۳۵/۴۲۳۲ حصہ علاقی بھائی اور دو علاتی بہنوں میں بطور عصبہ ۲: ا سے تقسیم ہو گا۔اس لئے علاتی بھائی (متوفی کے بیٹے ) کا حصہ = × = = ۳۵/۸۶۴ اور ہر علاتی بہن ( یعنی متوفی کی بیٹی ) کا حصہ اب آخری طور پر کل حصے یہ ہوں گے۔۳۵ ۴۳۲ ۳۵ ۱۷۲۸ ۳۵ = ۴۳۲ دوسری بیوی کا حصہ پہلی بیوی کے لڑکے کا حصہ پہلی بیوی کی ہرلڑکی کا حصہ ۶۸ ۳۴ = ۷ + ۲۷ = = ۸۶۴ ۴۳۲ ۴۳۲ ۴۳۲ ۸۶۴ = 297 2++2M ۱۷۲۸ = + ۱۷۲۸ ۸۶۴ ۲۸۸ ١٩٩ ۸۶۴ = ۳۹۸ - ۳۵ + ۳۶۳ = ۱۲۱ ۳۵ + = ۱۷۲۸ ۱۷۲۸ ۱۷۲۸ ۵۷۶ یعنی اگر جائداد کے ۸۶۴ سہام کئے جائیں تو بیوی کو ۶۸ لڑکے کو ۳۹۸ اور ہرلڑکی کو ۱۹۹ سہام