اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 244 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 244

۲۴۴ بیٹی کے ۲۴ سہام اور چچا کے ۲۵ سہام ہوں گے۔مثال نمبر ۵ ایک میت ایک زوجہ اور اس کے بطن سے تین بیٹے اور دو بیٹیاں دسری زوجہ اور اس کے بطن سے صرف ایک لڑکی وارث چھوڑے۔قبل تقسیم ترکہ پہلی زوجہ اور پھر اس کے دو بیٹے وفات پاگئے بعد میں زوجہ ثانی کی لڑکی بھی فوت ہوگئی باقی وارثوں کے حصے بتاؤ۔میت کے ورثاء دو بیویاں ، تین بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔1/14 ابتدائی تقسیم : دو بیویوں کا حصہ = ۱/۸ ہر ایک کا حصہ باقی = - = یہ ۷/۸ حصہ تین بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ۲: ا سے تقسیم ہو گا۔== ✓ ۹ ✗ = = اس لئے باپ کے ترکہ میں سے ہر بیٹے کا حصہ : اور ہر بیٹی کا حصہ ۲۔متوفیہ (متوفی کی پہلی زوجہ ) کا حصہ قابل تقسیم ۱/۱۶ ہے۔اور اس کے ورثاء تین بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔پس والدہ کے ترکہ ۱۶/ ۱ حصہ میں ہر لڑکے کا حصہ اور ہرلڑکی کا حصہ گویا اس وقت تک اس متوفیہ بیوی کے ہر بیٹے کا حصہ = = ۶۴ ۱۶ 1 ۱۲۸ == × 1/14 = ہے اور ان کے ۱۲۱ = ۹ + ۱۱۲ ۵۷۶ ۵۷۶ = + ١٢١ = ۹ + ۱۱۲ ۱۱۵۲ ۱۱۵۲ = اور ہر بیٹی کا حصہ = + + + پہلی بیوی کے متوفی بیٹوں کا حصہ قابل تقسیم ہے ۲۸۸ = ۲ × ۱۲۱ ۵۷۶