اسلام کا وراثتی نظام — Page 243
۲۴۳ نواسہ کو ۱۴ نواسی کو ۷ اور بھائی کو ۶۰ سہام ملیں گے۔مثال نمبر ۴ : ایک میت نے زوجہ، والدہ، بیٹی اور چا وارث چھوڑے قبل تقسیم ترکہ بیٹی اپنی دو بیٹیاں چھوڑ کر فوت ہو گئی۔میت کے ترکہ میں ہر ایک کا حصہ بتاؤ۔میت کے ورثاء زوجہ، والدہ ، بیٹی اور چچا ہیں۔1/4 ۱/۸ (۱) ابتدائی تقسیم = = ١/٢ = والدہ کا حصہ زوجہ کا حصہ بیٹی کا حصہ چچا کا حصہ باقی = 1 + + + + + = ۱- ۲+۳+۱۲ = ( ۲۴ ۲۴ متوفیہ بیٹی کا قابل تقسیم ترکہ ۱/۲ اور ورثاء والدہ ( میت کی زوجہ ) اور دو بیٹیاں (متوفی کی نواسیاں) ہیں۔متوفیہ کے ترکہ سے اس کی دادی ( یعنی متوفی کی والدہ ) محروم رہے گی۔کیونکہ متوفیہ کی والدہ موجود ے لہذا متوفیہ کی والدہ کا حصہ ۱/۶ اور دو بیٹیوں کا حصہ ۲/۳ کوئی عصبہ موجود نہیں اس لئے یہ رڈ کی صورت ہے لہذا متوفیہ کے ۱/۲ حصہ کو اس کی والدہ اور بیٹیوں کے حصوں کے تناسبت سے یعنی ! : = = ۴:۱ سے تقسیم کریں گے۔لہذا والدہ یعنی ( میت کی زوجہ ) کا حصہ دو بیٹیوں کا حصہ ایک بیٹی کا حصہ آخری طور پر کل حصے یہ ہوں گے۔= = II X −B TB || 1/4 = = والدہ کا حصہ زوجہ کا حصہ بیٹی کی بیٹی یعنی ( نواسی) کا حصہ چا کا حصہ 1/0 = ۵/۲۴ یعنی اگر جائداد ۱۲۰ سہام کئے جائیں تو والدہ کے ۲۰ سہام زوجہ کے ۲۷ سهام بیٹی کی