اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 232 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 232

۲۳۲ سے دستبرداری اختیار کر لی۔یہ اس بات کی دلیل ہے کہ تخارج جائز ہے۔اس مسئلہ کی تفاصیل ذہن نشین کرنے کے لئے نیچے چند مثالیں درج کی جاتی ہیں۔مثال نمبر ا : ایک میت نے زوجہ ، والدہ ، ایک بھائی وارث چھوڑے اس کا ترکہ ایک مکان تھا۔جس کی مالیت ۱۸۰۰۰ روپے تھی اور ایک رقم ۳۰۰۰ روپے جو بنک میں تھی۔اس کی زوجہ نے دوسرے ورثاء کی رضا مندی سے ۳۰۰۰ روپے کی رقم کے بدلہ میں اپنے حق سے دستبرداری اختیار کر لی۔والدہ اور بھائی کا حصہ بتاؤ۔حل کا ایک طریقہ کل ترکه زوجہ کا مقررہ حصہ = اس لئے ۲۱۰۰۰ روپے میں زوجہ کا حصہ = والدہ کا مقررہ حصہ = = ۳۰۰۰ + ۱۸۰۰۰ = 1/M = ۱/۴ × ۲۱۰۰۰ ۱/۳ = ۱/۳ × ۲۱۰۰۰ اس لئے ۲۱۰۰۰ روپے میں والدہ کا حصہ = ۲۱۰۰۰ روپے ۵۲۵۰ روپے ۷۰۰۰ روپے ( بھائی کا مقررہ حصہ = باقی کا ترکہ = 1 + + +) = $ 1 ) - ۱۲ اس لئے ۲۱۰۰۰ روپے میں بھائی کا حصہ = ۲۱۰۰۰ ☑ ۱۲ ۸۷۵۰ = اگر زوجہ صلح نہ کرتی تو ورثاء کے حصے اسی طرح ہوتے۔جس طرح اوپر دکھائے گئے ہیں اب چونکہ اس نے ۳۰۰۰ روپے کے بدلے اپنا حق چھوڑ دیا اس لئے اس کے حصے سے بچا ہوا روپیہ (۲۲۵۰) والدہ اور بھائی میں ان کے حصوں کے تناسب سے یعنی = : = ۵:۴ سے تو کر دیا جائے گا۔۱۲ تقسم لہذا ۲۲۵۰ روپے میں والدہ کا حصہ اور بھائی کا حصہ پس والدہ کا کل حصہ بھائی کا کل حصہ = = ۲۲۵۰ × = = ۱۰۰۰ روپے ۲۲۵۰۰ × ۵ = ۱۲۵۰ روپے = 1 + 2*** = ۸۰۰۰ روپے = ۸۷۵۹ + ۱۲۵۰ = ۱۰۰۰۰ روپے دوسرا طریقہ ایسے سوالات اس طریق سے بھی حل کئے جا سکتے ہیں کہ تقسیم کرتے وقت پہلے زوجہ ( صلح کرنے والے وارث ) کو تقسیم میں شامل سمجھا جائے پھر جب دوسرے وارثوں کو حصہ