اسلام کا وراثتی نظام — Page 233
۲۳۳ دینے لگیں تو اسے کالعدم سمجھا جائے۔اور جائداد میں سے وہ جائداد بھی خارج کر دی جائے جو خارج ہونے والا حصہ دار وصول کر چکا ہو اور باقی حصہ داروں میں باقی جائداد کو ان کے حصوں کی نسبت سے تقسیم کیا جائے جو خارج ہونے والے حصہ دار کو شامل کر کے متعین کئے گئے تھے مثلاً مندرجہ بالا مثال میں بیوی کا مقررہ حصہ = والدہ کا مقررہ حصہ = V/c ۱/۳ بھائی کا مقررہ حصہ = باقی کا = ۵/۱۲ اب زوجہ کو اور اس کے وصول کردہ حصہ کو نکال دیں تو باقی جائداد یعنی صرف مکان کی مالیت ۱۸۰۰۰ روپے قابل تقسیم رہ جاتی ہے یہ رقم والدہ اور بھائی میں اُن کے حصوں کے تناسب سے تقسیم کر دیں یعنی یہ : م = ۴ : ۵ سے۔:- ۱۲ = = ۱۸۰۰۰ × ۴/۹ = ۸۰۰۰ روپے ۱۸۰۰۰ × ۵/۹ = ۱۰۰۰۰ روپے اس لئے والدہ کا کل حصہ بھائی کا کل حصہ نوٹ: اگر شروع میں حصے متعین کرتے وقت زوجہ کو شامل نہ کریں تو پھر دوسروں کے حصوں میں فرق پڑ جاتا ہے یعنی ذوی الفروض کے حصے کم ہو جاتے ہیں اور عصبات یا عصبہ کے بڑھ جاتے ہیں اور یہ جائز نہیں۔مثلاً اگر بیوی کو شروع سے ہی خارج از تقسیم ترکہ کر دیں اور دوسروں کے حصے متعین کرنے میں اسے شامل نہ کریں تو 1/12 = (1/12 - 1) والدہ کا حصہ ۱/۳ = بھائی کا حصہ = لہذا ۱۸۰۰۰ روپے میں والدہ کا حصہ = اور بھائی کا حصہ = ۲۰۰۰ روپے ۱۲۰۰۰ روپے اس طرح والدہ کو اپنے حق سے ۲۰۰۰ کم ملتے ہیں۔پس شروع میں حصے متعین کرتے وقت تخارج اختیار کرنے والے وارث کو شامل کیا جائے گا پھر باقی جائداد میں سے دوسروں کو ا جس کے بدلے میں وارث باقی ترکہ سے دستبرداری اختیار کرتا ہے یعنی تخارج