اسلام کا وراثتی نظام — Page 231
۲۳۱ ۴۔مسئلہ تخارج تخارج خرج سے ہے اور اس کے معنے آپس میں ایک دوسرے کو خارج کرنے کے ہیں۔وراثتی اصطلاح میں جب ایک یا زیاد وارث باہمی رضا مندی سے ترکہ میں سے کچھ مال لے کر باقی ترکہ سے دستبرداری اختیار کر لیں تو ایسے وارث کے باقی ترکہ کی تقسیم سے نکل جانے کو تخارج کہتے ہیں۔اب ظاہر ہے کہ نکلنے والا وارث جو کچھ لے کر دستبرداری اختیار کرتا ہے وہ اس کے شرعی حصہ سے کم بھی ہو سکتا ہے، زیادہ بھی ہو سکتا ہے اور برابر بھی ہوسکتا ہے۔پہلی صورت میں جب وہ ایسی رقم پر راضی ہو جاتا ہے جو اس کے شرعی حصہ سے کم ہو تو بچی ہوئی رقم دوسرے ورثاء میں اُن کے حصوں کی نسبت سے تقسیم کر دی جاتی ہے اسے طرح دوسرے ورثاء اپنے شرعی حصوں سے کچھ زائد حاصل کرتے ہیں۔دوسری صورت میں جب وہ ایسی رقم پر راضی ہوتا ہے جو اس کے شرعی حصہ سے زیادہ ہے تو پھر یہ زیادہ رقم دوسرے ورثاء کے حصوں سے اُن کے حصوں کے تناسب سے وضع کی جاتی ہے۔اس طرح دوسروں کو قدرے کم ملتا ہے۔بہر حال یہ معاملہ صلح اور رضا مندی کا ہے تخارج میں یہ شرط ہے کہ جو کچھ لیا ہو وہ مورث کے متروکہ میں سے ہو اگر باقی وارثوں نے اپنی ذاتی جائداد میں سے کچھ دیا تو اس کو تخارج نہیں کہہ سکتے ہیں بلکہ وہ اپنے حصہ کی بیع ہے جس پر شرائط بیع عائد ہوں گی۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا ایسی صلح ، ملعجائز ہے؟ اور اس کی دلیل جواز کیا ہے۔اس کا ثبوت وہ واقعہ ہے جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت میں پیش آیا تھا۔حضرت عبدالرحمن بن عوف نے اپنی چار بیویوں میں سے ایک بیوی تماضر الشجیہ کو اپنی آخری بیماری کے ایام میں طلاق دے دی۔ابھی وہ بیوی اپنی عدت کے ایام ہی گزار رہی تھی کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف کا انتقال ہو گیا۔چونکہ یہ طلاق شرعی لحاظ سے تکمیل کو نہیں پہنچی تھی اس لئے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس بیوی کو بھی اُن کے ترکہ کا وارث قرار دیا۔سو یہ بیوی بھی اُن کے ترکہ میں دوسری بیویوں کی طرح ۱/۳۲ حصہ کی وارث قرار پائی ، لیکن اس نے دوسری بیویوں کے ساتھ تر اسی ہزار دینار کے بدلے صلح کر کے ترکہ