اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 180 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 180

۱۸۰ علاقی بھائی کی بیٹیاں ( علاتی بھتیجہ بھی عصبہ ہے ) علاقی بہنوں کی اولاد حقیقی بھیجے کی بیٹیاں یعنی اولا د عصبات علاقی بھتیجے کی بیٹیاں یعنی اولا د عصبات اخیافی بہن بھائیوں کے پوتے پوتیاں اور علاتی بہن بھائیوں کے پوتے پوتیاں حقیقی ، علاتی اور اخیافی بھتیجوں ، بھتیجیوں، بھانجوں اور بھانجیوں کے پوتے پوتیاں جو عصبہ نہ ہوں، اسی طرح سے یہ سلسلہ مزید نیچے تک لے جایا جا سکتا ہے چونکہ عملاً اس کی ضرورت شاذ ہی پڑتی ہے اس لئے اس سلسلہ کو یہیں تک رہنے دیتے ہیں۔یہ یاد رکھئے کہ جب پہلے زمرہ کا کوئی رکن بھی موجود نہ ہو تو پھر کسی دوسرے زمرے کے ارکان کو وراثت پہنچے گی۔ذوی الارحام درجہ سوم تم اول امام ابو یوسف کا اصول امام موصوف کے نزدیک حقیقی بھائیوں اور بہنوں کی اولاد کے سامنے علاقی ، بھائی ، بہنوں کی اولا دمحروم ہوتی ہے اور علاقی بھائی بہنوں کی اولاد کے سامنے اخیافی بھائی بہنوں کی اولا دمحروم ہوتی ہے۔اس اختلاف کی وجہ وہی ہے جو پہلے بیان ہو چکی ہے کہ امام موصوف دعویداروں کی نسل یعنی ” فرع“ کا خیال رکھتے ہیں جب کہ امام محمد اصول کا جس کے نتیجہ میں امام ابو یوسف کی ترتیب تو ریث امام محمد کی ترتیب تو ریث سے مختلف ہو جاتی ہے۔یہ معلوم کرنے کے بعد کہ ہر قسم کے بہن بھائیوں کی اولاد میں سے کون کون سے لوگ وارث قرار پاتے ہیں ان میں جائداد تقسیم کرنے کے ضمنی قواعد یہ ہیں۔قاعدہ نمبرا: جائدادا بتداء اصول میں تقسیم کر دو۔یعنی بھائیوں اور بہنوں میں ( یہ تصور کرتے ہوئے کہ وہ زندہ ہیں) اور ہر بھائی کو جس کی دو یا دو سے زائد اولا دیں، دعویدار ہوں ، دعویداروں کی تعداد کے برابر بھائی فرض کر لو، اور اسی ہر بہن کو جس کی دو یا دو سے زائد