اسلام کا وراثتی نظام — Page 179
129 متوفی سے ان دونوں (وارثوں) کا تعلق مادری سے اور درمیانی اجداد بھی ہم جنس ہیں اس لئے نانا کے والد کو بوجہ مرد ہونے کے جائداد کا ۲/۳ حصہ اور نانا کی والدہ کو بوجہ عورت ہونے کے۱/۳حصہ ملے گا۔انہی قواعد کی مدد سے ذوی الارحام درجہ دوم کے باقی ارکان کی میراث بھی معلوم کی جاسکتی ہے۔ذوی الارحام کا تیسرا درجہ اگر درجہ اول اور دوم کے ذوی الارحام میں سے کوئی بھی موجود نہ ہو تو پھر ترکہ تیسرے درجہ کے ذوی الارحام میں تقسیم ہوتا ہے یہ درجہ اُن بھائیوں اور بہنوں کی اولا دوں مشتمل ہے جو کہ نہ ذوی الفروض ہوں اور نہ ہی عصبہ۔اس درجہ کے ارکان کے درمیان میراث کی تقسیم کے قواعد یہ ہیں۔الف۔قریب تر بعید تر کو محروم کرتا ہے۔(الا قرب ثم الاقرب ) ایک ہی درجہ کے دعویدار رشتہ داروں میں سے، عصبات کی اولاد کو ذوی الارحام کی اولاد پر فوقیت حاصل ہے یعنی حقیقی بھائی کے بیٹے ( بھتیجے ) کی بیٹی جو عصبہ کی اولاد ہے حقیقی بہن کی بیٹی ( بھانجی ) کے بیٹے کو جو ذی رحم کی اولاد ہے محروم کر دیتی ہے۔ج اخیافی بھائیوں اور بہنوں کی اولا د حقیقی اور علاقی بھائی بہنوں کی اولاد سے محجوب نہیں ہوتی بلکہ وہ اپنے ”اصل“ کے لحاظ سے حصہ پاتے ہیں۔یعنی اگر اخیافی بہن یا بھائیوں کے توسط سے دعویدار ایک سے زائد ہیں تو ۱/۳ حاصل کریں گے اگر صرف ایک ہی دعویدار ہے تو ۱/۶ حاصل کرے گا۔تیسرے درجہ کے ارکان کی ترتیب توریت ! حقیقی بھائیوں کی بیٹیاں (حقیقی بھیجا عصبہ ہے) حقیقی بہنوں کی اولاد اخیافی بہن بھائیوں کی اولاد