اسلام کا وراثتی نظام — Page 181
۱۸۱ اولا دیں دعویدار ہوں، دعویداروں کی تعداد کے برابر بہنیں فرض کر لو۔اس درجہ میں حقیقی ، علاقی اور اخیافی بھائی بہن سب اصول ہیں۔اخیافی بہن بھائی بطور ذوی الفروض کے حصہ پاتے ہیں۔اگر ایک ہے تو اس کا مفروضہ حصہ ۱/۶ اور اگر زائد ہیں تو ۱/۳ ہوگا۔حقیقی اور علاقی بھائیوں کو ہمیشہ بطور عصبہ حصہ ملتا ہے۔حقیقی بھائی کی غیر موجودگی میں حقیقی بہنیں بھی ذوی الفروض بن جاتی ہیں۔اس لئے اگر ایک ہے تو اسے ۱/۲ حصہ اور اگر دو یا دو سے زائد ہیں تو انہیں ۲/۳ حصہ ملتا ہے اور اگر بہن بھائی دونوں موجود ہیں تو پھر حقیقی بہن حقیقی بھائی کے ساتھ عصبہ بالغیر ہو کر حصہ پاتی ہیں۔یہی حالت علاتی بہنوں کی ہے اگر دعویداران وراثت کے اصول میں ایک اخیافی اور ایک یا زیادہ حقیقی بھائی ہوں تو اخیافی بھائی کو ١/٦ حصہ بطور ذوی الفروض اور حقیقی بھائی یا بھائیوں کو ۵/۶ حصہ بطور عصبہ ملے گا، لیکن اگر اخیافی بھائی کی اولاد میں سے دو یا دو سے زیادہ دعویدار ہوں تو اخیافی بھائی کا مفروضہ حصہ ۱/۳ ہو جائے گا۔(جو دو یا دو سے زائد ا خیافی بہن بھائیوں کا حصہ ہے) اور حقیقی بھائی یا بھائیوں کا مفروضہ حصہ (۱ - + ) = رہ جائے گا۔اسی طرح اگر دعویداروں میں اخیافی بہن کی پانچ اولادیں ہیں، اور حقیقی بہن کی چھ اولادیں ہیں تو اخیافی بہن کا حصہ ۱/۳ ہو گا جو دو یا دو سے زیادہ اخیافی بہنوں کا حصہ ہے اور حقیقی بہن کا حصہ ۲/۳ ہوگا جو دو یا دو سے زائد حقیقی بہنوں کا حصہ ہے اگر دعویداروں کے اصول میں حقیقی بھائی اور حقیقی بہنیں ہوں تو وہ بطور عصبات حصہ پاتے ہیں۔اس طرح کہ ہر بھائی کو دو حصے اور ہر بہن کو ایک حصہ ملتا ہے۔اب اگر ایک ہی حقیقی بھائی اور ایک ہی حقیقی بہن کی اولادیں حصہ دار ہوں اور حقیقی بھائی کی دو بیٹیاں ہوں اور حقیقی بہن کی تین اولادیں (بیٹے یا بیٹیاں) ہوں تو حقیقی بھائی دو مردوں (یعنی چار عورتوں) کے برابر اور حقیقی بہن تین عورتوں کے برابر سمجھی جائے گی۔اس طرح جائداد کے کل سات حصے ہوں گے جس میں حقیقی بھائی کی بیٹیوں کا حصہ ۴۷ اور حقیقی بہن کی اولاد کا حصہ ۳۷ ہوگا۔قاعدہ نمبر ۲:۔اصول کے حصے معلوم کرنے کے یہ حصے ان کی اولادوں میں حسب ذیل طریق سے تقسیم کئے جاتے ہیں۔