اسلام کا وراثتی نظام — Page 106
دادا کا حصہ = 1+4 * =÷-1 یعنی اگر جائداد کے بارہ سہام کئے جائیں تو ایک سہم دادی کا اور ایک سہم نانی کا اور اسہام دادا کے ہوں گے۔اگر کوئی میت دادا کی ماں اور دادا کو اپنے ورثاء چھوڑے تو دادا کی ماں دادا کی وجہ سے محجوب ہو گی۔کیونکہ وہ (دادا) درمیان واسطہ ہے اور دادا کی ماں کا رشتہ اسی کے ذریعہ قائم ہوتا ہے۔اس لئے دادا ہی تمام جائداد کا وارث ہوگا، لیکن اگر دادی کی ماں اور دادا میت کے ورثاء ہوں تو دادی کی ماں جو باپ کی جانب سے جدہ صحیحہ ہے دادا کی وجہ سے محروم نہیں ہوتی۔کیونکہ وہ دادای کی قائم مقام ہے اور دادی دادا کی موجودگی سے محجوب نہیں ہوتی۔دادی کا ماں کا حصہ 1/4 = باقی = 1 - + = = یہ تمام باقی حصہ دادا ہی حاصل کرے گا دو مثالیں اور لیجئے جن سے یہ تمام باتیں اچھی طرح ذہن نشین ہو جائیں گی۔مثال نمبر ۴۳ : ایک میت نے مندرجہ ذیل ورثاء چھوڑے۔دادی، دادا، پڑنانی اور والد ہر ایک کا حصہ بتاؤ۔والد کی وجہ سے دادی دادا محروم ہوں گے۔دادی کی وجہ سے جو قریب تر جدہ صحیحہ ہے پڑنانی محروم ہو گی ) اس لئے کل متروکہ والد کو ملے گا۔مثال نمبر ۴۴ : اگر ایک میت کے دادی ، دادا اور پڑنانی ورثاء ہوں تو ہر ایک کا حصہ بتائیے۔دادی قریبی جدہ صحیحہ ہے اس لئے پڑنانی محروم ہوگی۔لہذا دادی کا حصہ = دادا کا حصہ = 1/4 باقی تمام = 1 - + = م ایک بات یاد رکھیے جو خود محجوب ہو جائے وہ کسی دوسرے وارث کو بھی کلیتا یا جزاً محجوب کرسکتا ہے۔مثلاً اگر کسی میت کا باپ، دادی اور پڑنانی وارث ہوں تو دادی باپ کی وجہ سے محروم رہتی ہے اور پڑنانی دادی کی وجہ سے محروم رہتی ہے۔کیونکہ دادی قریب تر جدہ صحیحہ ہے یہ