اسلام کا وراثتی نظام — Page 105
۱۰۵ وارث چھوڑیں ہر ایک کا حصہ بتاؤ۔امام ابو یوسف کے اصول کے مطابق کل ترکہ پہلی اور دوسری دادی میں برا بر تقسیم ہو گا۔یعنی ہر ایک کو نصف ملے گا۔امام محمد کے اصول کے مطابق پہلی دادی کو ایک حصہ اور دوسری کو دو حصے ملیں گے کیونکہ میت سے دوسری کا رشتہ دو جہت سے ہے۔اس لئے والد کی نانی کا حصہ = ۱/۳ ماں کی نانی ( باپ کی دادی) کا حصہ = ۲/۳ مثال نمبر ۴۱ : یہاں جہات کے اعتبار سے تقسیم ہوئی ہے ) ایک میت نے دادی، نانی اور باپ اپنے ورثاء چھوڑے اس کے ترکہ میں ہر ایک کا حصہ بتاؤ۔دادی کا حصہ نانی کا حصہ باپ کا حصہ = = صفر ( کیونکہ باپ زندہ ہے ) 0/7=1/4 1/4 - 1 = ( کیونکہ باقی کا تمام تر کہ باپ لے گا) یعنی اگر جائداد ۶ سہام کئے جائیں تو دادی و سکچھ نہیں ملے گا۔نانی کو ایک سہم ملے گا اور باقی پانچ سہام والد کے ہوں گے۔مثال نمبر ۴۲ : حصے بتاؤ۔ایک میت نے دادی، نانی اور دادا اپنے ورثاء چھوڑے اس کے ترکہ میں ان کے دادی و نانی کا حصہ = 1/4 ( کیونکہ دادی نانی مساوی الدرجہ ہیں یعنی دوسرے درجہ کی ( اس لئے دونوں ہی حقدار ہیں) 1/15 لہذا دادی کا حصہ = نانی کا حصہ =