اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 88 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 88

سہام ملیں گے۔۸۸ مثال نمبر ۲۱ ایک میت نے والدہ ، والد اور بیوی وارث چھوڑے۔ہر کا حصہ بتاؤ۔بیوی کا حصہ باقی والدہ کا حصہ ½ = =-= = = = 6 = = والد کا حصہ = باقی = اگر جائداد کے ۴ سہام کئے جائیں تو والدہ کا ایک، والد کے دو اور زوجہ کا ایک سہم ہو گا۔ے۔بیٹی کا حصہ بیٹی بھی کبھی کسی وارث کی موجودگی کی وجہ سے محروم نہیں ہوتی کبھی یہ عصبہ بالغیر (جس کا ذکر اگلے باب میں آئے گا) ہوتی ہے اور کبھی ذوی الفروض میں شمار ہوتی ہے اس کی وراثت کی تین صورتیں ہیں۔الف۔اگر میت کی صرف اور صرف ایک بیٹی ہو تو وہ ترکہ کا نصف (۱/۲) حاصل کرتی ہے۔اور اگر میت کا اس کے سوا اور کسی قسم کا کوئی وارث نہ ہو تو یہ کل مال حاصل کر لیتی ہے ۱/۲ بطور ذوی الفروض کے اور باقی ۱/۲ بھی مسئلہ رد کے مطابق (جس کا ذکر آگے آئے گا ) اسے ہی دے دیا جائے گا۔اگر میت کی بیٹیاں ہی بیٹیاں ہوں جو دو یا دو سے زائد ہوں (بیٹا کوئی نہ ہو) تو پھر یہ ترکہ کے ۲/۳ حصہ (دو ثلث) حاصل کرتی ہیں۔جو ان میں باہم برابر تقسیم ہوتا ہے۔ج اگر میت کا کوئی بیٹا بھی ان کے ساتھ موجود ہو تو پھر بیٹے کی وجہ سے بیٹیاں بھی عصبہ بن جاتی ہیں جسے عصبہ بالغیر کہتے ہیں۔اس صورت میں ذوی الفروض کے حصے ادا کرنے کے بعد جو باقی بچے وہ بیٹے ، بیٹیوں میں ۱:۲ کی نسبت سے تقسیم کر دیا جاتا ہے گویا ترکہ میں بیٹے ، بیٹیوں کا حصہ معین نہیں ہوتا۔ان کا حصہ موجود ذوی