اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 89 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 89

۸۹ الفروض کی تعداد اور ان کی اپنی تعداد کے اعتبار سے کم و بیش ہوتا رہتا ہے مگر ہر حال میں بیٹے کا حصہ بیٹی سے دُگنا ہوتا ہے یعنی حصوں کے لحاظ سے ایک بیٹا دو بیٹیوں کے برابر سمجھا جاتا ہے۔مثال نمبر ۲۲: ایک میت نے والد ، زوجہ اور ایک بیٹی ورنا چھوڑے ہر ایک کا حصہ بتائیے۔۲۴ = ۱/۲ 1/4 = = لد الله - = ( + + ++Y) -1 = زوجہ کا حصہ بیٹی کا حصہ والد کا حصہ باقی ۴۴ ۲۴ ۲۴ یه ۲۴ ۵ حصہ والد کو بطور عصبہ مل جاوے گا۔اس طرح والد کا کل حصہ + + = یعنی اگر جائداد کے ۸ حصے کئے جائیں تو بیوی کا ایک بیٹی کے چار اور باپ کے تین حصے ہوں گے۔نوٹ : ایسے سوالوں کو مختصر طریق سے اس طرح بھی حل کیا جا سکتا ہے۔ہوں گے۔زوجہ کا حصہ بیٹی کا حصہ والد کا حصہ = 1/5 = = 1+1 باقی تمام = 1- ( + ) = 1 - 1 = یعنی جائداد کے کل آٹھ سہام میں سے ایک بیوی کا ۴ بیٹی کے اور تین والد کے مثال نمبر ۲۳: ایک میت نے والدین اور ۲ لڑکیاں چھوڑیں اگر اس کا ترکہ ۹۰۰۰ روپے ہو جس میں سے ۱/۳ کی وصیت کسی انجمن کے نام کی ہوئی ہو تو ہر ایک کا حصہ بتاؤ۔1 = ۲ بیٹیوں کا حصہ ۲/۳ ہر ایک لڑکی کا حصہ = = x = = = 1 والد کا حصہ والدہ کا حصہ 1/4 = 1/4 =