اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 86 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 86

۸۶ گزار رہی ہو تو خاوند کا انتقال ہو جائے تو اس بیوی کو اس خاوند کی جائداد سے اپنا شرعی حصہ پانے سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔خواہ اس طلاق کا اعلان خاوند نے تندرستی میں کیا ہو یا بیماری میں اس بیوی کو اس کا حصہ ضرور ملے گا۔کیونکہ عدت کے ایام کے دوران عورت دوسرا نکاح نہیں کر سکتی وہ پہلے ہی خاوند کی زوجہ سمجھی جاتی ہے تو پھر اس اثناء میں وہ جائداد سے کیونکر محروم کی جاسکتی ہے۔اسے حسب قواعد بالا جنہیں مثالوں سے بھی واضح کیا گیا ہے اپنا حصہ ملے گا۔اسی طرح عورت اگر خود طلاق (خلع ) مانگے اور خاوند دے دے تو پھر اگر عدت کے دوران بیوی کا انتقال ہو جائے تو خاوند بیوی کے ترکہ میں اپنے حصہ کا وارث ہوگا۔جیسا کہ خاوند کے انتقال ہو جانے کی صورت میں بیوی اس کے ترکہ میں اپنے حصہ کی وارث ہوتی ہے کیونکہ دوران عدت وراثت کے لحاظ سے عورت اپنے سابقہ خاوند کی ہی بیوی شمار ہوتی ہے۔۶۔والدہ کا حصہ اسی طرح والدہ بھی کسی دوسرے رشتہ دار کی موجودگی کی بناء پر اپنے بیٹے یا بیٹی کے ترکہ سے نہ تو کلیتا محروم ہوسکتی ہے اور نہ ہی کسی صورت میں اس کا حصہ قابل تقسیم ترکہ کے /1 حصہ سے کم ہو سکتا ہے بلکہ بعض حالات میں ۱/۶ حصہ سے زیادہ مل جاتا ہے۔والدہ کی میراث کی حسب ذیل صورتیں ہیں۔الف۔اگر میت کی کوئی اولاد ( بیٹا، بیٹی، پوتا، پوتی، پڑپوتا، پڑپوتی ) موجود ہو تو ماں کو میت کی جائداد کا (۱/۶) چھٹا حصہ ملتا ہے۔اگر میت کے دو یا دو سے زیادہ بہن بھائی ہوں ( یہ بھائی بہن خواہ کسی قسم کے ہوں عینی ہوں ، علاتی ہوں یا اخیافی ہوں ) والدہ کو میت کے ترکہ کا ۱/۶ حصہ ہی ملے گا۔ج اگر کسی متوفی یا متوفیہ نے زوج، والد اور والدہ یا زوجہ، والد اور والدہ ورثا چھوڑے ہوں تو پھر زوج یا زوجہ کو ان کا شرعی حصہ دینے کے بعد باقی ترکہ کا ۱/۳ ماں کا حصہ ہے۔اگر مذکورہ بالا صورتوں میں سے کوئی بھی صورت نہ ہو یعنی نہ میت کے بیٹا ، بیٹی ، پوتا، پوتی وغیرہ زندہ ہیں نہ دو یا دو سے زائد کسی قسم کے بہن بھائی موجود ہیں اور نہ ہی میت کی زوج یا زوجہ ہے تو اس صورت میں میت کی والدہ کو کل مال کا ایک تہائی