اسلام کا وراثتی نظام — Page 85
شریک ہوں گی۔۸۵ مثلاً اگر ایک میت تین لڑکے اور دولڑکیاں جو اس کی پہلی فوت شدہ بیوی کے بطن سے ہیں چھوڑے اور موجودہ بیوی سے کوئی اولاد نہ ہو تو اس صورت میں موجودہ بیوی کو خاوند کی جائداد کا ۱/۸ حصہ ہی ملے گا۔مثال نمبر ۱۴: ایک میت نے دو بیویاں چھوڑیں۔پہلی بیوی کے بطن سے ایک لڑکا اور دوسری کے بطن سے ایک لڑکی موجود ہے اس صورت میں دونوں موجودہ بیویوں کو جائداد کے ۱/۸ حصہ دیا جائے گا جسے یہ دونوں ( بیویاں ) با ہم برابر تقسیم کر لیں گی۔اس لئے ہر ایک بیوی کا حصہ = ۱/۱۶ مثال نمبر ۱۵: ایک میت کی پہلی بیوی سے کوئی اولا د نہیں۔دوسری بیوی سے ایک لڑکی ہے اگر بوقت وفات اس کی پہلی بیوی ہی زندہ ہو تو اسے بھی ترکہ کا ٨/ ا حصہ ہی ملے گا۔مثال نمبر ۱۶: ނ ایک میت نے چار بیویاں چھوڑیں جن میں سے صرف تیسری بیوی کے بطن ایک لڑکا موجود ہے اس لئے یہاں بھی چاروں بیویوں کو ۱/۸ حصہ ملے گا۔جو ان سب میں برابر برابر تقسیم ہو جائے گا اس لئے ہر بیوی کا حصہ = + x + = مثال نمبر۱۷: ایک شخص کے ہاں پہلی بیوی سے کوئی اولاد نہیں اس نے دوسری شادی کی پھر بھی اولاد نہ ہوئی پھر تیسری شادی کی اسی طرح چوتھی کی لیکن اولاد نہ ہوئی۔پھر یہ شخص وفات پا گیا۔چونکہ کسی بھی زوجہ کے بطن سے اس کی اولاد نہیں اس لئے اس کی تمام بیویاں ترکہ کے ۱/۴ میں ( برابر کی شریک ہوں گی۔لہذا ہر ایک بیوی کا حصہ = x = = ان تمام نہایت آسان اور عام فہم مثالوں سے واضح ہو جاتا ہے کہ خاوند کی کوئی اولا د بھی ثابت ہو جائے تو بیوی یا بیویوں کا حصہ ۱/۴ کی بجائے ۱/۸ ہو جاتا ہے یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ اگر ایک شخص اپنی بیوی کو طلاق دے دے اور وہ عدت کے دن