اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 249 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 249

۲۴۹ اس لئے والدہ کا حصہ باقی = اس لئے ہر بیٹے کا حصہ ۱۹۲ = ۳۵ ۲ - ۲ = تین بیٹوں میں تقسیم ہو گا۔= ۳۵ ۳۵ = ☑ ۵۷۶ ۱۹۲ آخری طور پر کل حصے یہ ہوں گے۔۱۹۲ ۳ + ۲۴ ۱۹۲ + ۱۹۲ ۷۳۲ = ۳۵/۵۷۶ = 6/47 = زوجہ کا حصہ بیٹے کا حصہ ہر پوتے کا حصہ ہر بیٹی کا حصہ یعنی اگر جائداد کے ۵۷۶ سہام کئے جائیں تو زوجہ کے ۹۳ بیٹے کے ۱۲۶ ہر پوتے کے ۳۵ اور ہر بیٹی کے ۶۳ سہام ہوں گے۔مثال نمبر ۱۰: ایک میت نے ۴ بیٹے اور تین بیٹیاں وارث چھوڑے۔قبل تقسیم تر کہ ایک بیٹا فوت ہو گیا ہر ایک کا حصہ بتاؤ۔ابتدائی تقسیم۔چونکہ صرف عصبات ہی موجود ہیں اس لئے انہیں میں تمام جائداد تقسیم ہوگی اس طرح کہ بیٹے کو دو حصے اور بیٹی کو ایک حصہ۔لہذا ہر بیٹے کا حصہ ہر بیٹی کا حصہ r/11 = 1/11 = متوفی بیٹے کا قابل تقسیم حصہ ۲/۱۱ ہے اور اس کے ورثاء تین بھائی اور بہنیں ہیں۔اس لئے ۲/۱۱ حصہ میں ہر بھائی ( پہلے متوفی کے بیٹے کا ح کا حصہ = x = = ہر بہن ( پہلے متوفی کی بیٹی ) کا حصہ = 7 × 4 = 1 ۹۹ پس متوفی والد کے ہر زندہ بیٹے کا کل حصہ = A = F + F = = ۹۹ ۲۲ ۹۹ ۹۹ 11 = ۲ + ۹۹ = ۹۹ ہر بیٹی کا کل حصہ = + +