اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 250 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 250

۲۵۰ نوٹ :۔یہ حصے براہ راست یکجائی تقسیم سے بھی حاصل ہو سکتے ہیں۔کیونکہ ایک بیٹے کے فوت ہونے سے باقی وارث بھی وہی رہتے ہیں۔جو باپ کے وارث تھے اور دو دفعہ یا ایک ہی دفعہ تقسیم کرنے سے ان کے حصوں میں بھی کچھ فرق نہیں پڑتا۔پس فوت شدہ لڑکے کو تقسیم شروع کرنے سے پہلے ہی خارج کر دیا جائے اور جائداد تین زندہ بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ۱:۲ سے تقسیم کر دی جائے تو ہر بیٹے کا حصہ ۲/۹ اور ہر بیٹی کا حصہ ۱/۹ ہوگا اور یہ وہی حصے ہیں جو او پر دو مرتبہ یعنی مناسخہ کے طریق پر تقسیم کرنے سے حاصل ہوئے تھے۔اس لئے اگر کسی وارث کے فوت ہونے سے ورثاء وہی رہیں جو پہلے تھے اور ان کے حصوں میں بھی کوئی تبدیلی واقع نہ ہو تو ترکہ کو ایک بار ہی ان میں تقسیم کر دینا چاہئے۔مثال نمبر 1: ایک میت نے ایک بیٹا ایک بیٹی اور ایک بہن وارث چھوڑے۔قبل تقسیم ترکہ بیٹا فوت ہو گیا۔ہر ایک کا حصہ بتاؤ۔اس مثال میں براہ راست تقسیم نہیں کر سکتے کیونکہ بیٹے کی غیر موجودگی میں میت کی بہن بھی وارث بن جاتی ہے اور دوسرے ورثاء کے حصوں میں بھی فرق پڑ جاتا ہے مثلاً اگر لڑکے کو ابتدائے تقسیم پر ہی نکال دیں تو حصے یہ ہوں گے۔بیٹی کا حصہ بہن کا حصہ 1/4 = یہ رڈ کی صورت ہے اس لئے ان کے حصوں کے لحاظ سے ترکہ تقسیم ہو گا۔یعنی ۳: ا سے۔اس لئے بیٹی کا حصہ بہن کا حصہ ۳/۴ 1/8 = = لیکن اگر ہم ابتدائی تقسیم میں متوفی کے بیٹے کو بھی شامل کریں جو پہلے متوفی کی وفات کے وقت زندہ تھا (اور یہی طریق درست ہے ) اور پھر فوت ہونے والے بیٹے کا حصہ اس کے ورثاء کو دیں تو حصے یہ ہوں گے۔r/F = ابتدائی تقسیم : بیٹے کا حصہ