اسلام کا اقتصادی نظام — Page 87
دین کے لئے زندگی وقف کرنے میں کمیونسٹ نظام کی روکیں اب اس سوال کا دوسرا پہلو لے لو ہر مسلمان یہ کہتا ہے کہ میں روپیہ ہیں مانگتا لیکن میں اسلام کی خدمت کے لئے اپنی زندگی وقف کر دیتا ہوں۔وہ کہتا ہے کہ میں سارے روس میں پھروں گا اور اپنے خیالات اُن لوگوں پر ظاہر کروں گا۔میں گاؤں بہ گاؤں اور قصبہ بہ قصبہ اور شہر بہ شہر جاؤں گا اور لوگوں کو اسلام میں داخل کرنے کی کوشش کروں گا۔سوال یہ ہے کہ کیا کمیونسٹ گورنمنٹ ایک مسلمان کو اپنی زندگی وقف کرنے اور اسلام کی اشاعت کے لئے اپنے ملک میں پھرنے کی اجازت دے گی۔یا جبراً اُسے اس کام سے روکے گی اور اُسے جیل کی تنگ و تاریک کوٹھریوں میں محبوس کر دے گی۔یقیناً اس کا ایک ہی جواب ہے کمیونسٹ گورنمنٹ اُسے جبراً اس کام سے روکے گی اُسے دین اور مذہب کا کام نہیں کرنے دے گی۔اُسے قید خانہ میں بند کر دے گی اور اُسے کہے گی کہ یا تو کوئی اور کام کرو ورنہ یاد رکھو اس قسم کے کام کے ساتھ تمہیں روٹی اور کپڑا نہیں مل سکتا۔گو یا خدا کے لئے میرا اپنی زندگی کو وقف کر دینا، میرا قرآن کی تعلیم کے لئے اپنے آپ کو وقف کر دینا، میر احدیث کی تعلیم کے لئے اپنے آپ کو وقف کر دینا جس کے بغیر میرے عقیدے کی رو سے میری اُخروی زندگی سدھر ہی نہیں سکتی کمیونزم کے نزدیک نکما پن ہے، یہ بے کاری اور وقت کا ضیاع ہے۔کمیونسٹ حکومت اسلام کی اشاعت کے لئے اپنی زندگی وقف کرنے والے کو کہے گی کہ اگر تم نے مذہب کی اشاعت کا کام کیا تو یاد رکھو یا تو تمہیں قید کر دیا جائے گا اور یا تمہاری روٹی اور کپڑا بند کر دیا جائے گا۔حالانکہ قرآن کریم اس قسم کے افراد کی جماعت کو قومی لحاظ سے نہایت ضروری قرار دیتا ہے اور مذہب کو ماننے والے اس امر کے قائل ہیں کہ ایک حصہ اُن کے افراد کا پوری طرح مذہبی نظام کے قیام کے لئے فارغ ہونا چاہئے۔87