اسلام کا اقتصادی نظام — Page 86
اپنے ملک میں اجازت نہیں دے سکتے۔یہ بیکاری اور قوم پر بوجھ بن کر بیٹھ جانا ہے اگر کمیونسٹ یہ کہتے کہ ہم مذہب کے مخالف ہیں اور اُسے غیر ضروری قرار دیتے ہیں تو گو پھر بھی ہمیں اختلاف ہوتا۔مگر ہمیں افسوس نہ ہوتا۔ہم سمجھتے کہ جو کچھ ان کا دل میں عقیدہ ہے اسی کو اپنی زبان سے ظاہر کر رہے ہیں۔مگر ہمیں افسوس ہے تو یہ کہ کمیونسٹ یہ بات ظاہر نہیں کرتے۔وہ کھلے بندوں یہ نہیں کہتے کہ ہم اپنے نظام کے ماتحت تمہارے مذہب کو اپنے ملک میں پھیلنے کی اجازت نہیں دے سکتے بلکہ وہ گھر کے پچھلے دروازہ سے گھر میں گھنے کی کوشش کرتے ہیں اور اکثر مذہب کے ماننے والے اُس وقت اُن کی اس چالاکی سے واقف ہوتے ہیں جب کہ وہ اپنی شخصیت کھو چکے ہوتے ہیں اور کمیونزم سے ان کی ہمدردی اور محبت اتنی بڑھ چکی ہوتی ہے کہ اُن کی آنکھوں پر پٹی بندھ جاتی ہے۔کمیونزم اگر کھلے بندوں کہے کہ ہم اُخروی زندگی کو کوئی وقعت نہیں دیتے ہم اس کے پر چارک کے لئے کوئی سامان تمہارے پاس نہیں چھوڑ نا چاہتے تو آنکھوں کھلے لوگ اُس میں داخل ہوں۔مگر دوسرے ممالک میں اس حصہ کو پوری طرح مخفی رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ کمیونزم صرف ایک اقتصادی نظام ہے مذہب سے اس کا کوئی ٹکراؤ نہیں۔حالانکہ مذہب نام ہے تبلیغ کرنے کا ، مذہب نام ہے ایک دوسرے کو خدا تعالیٰ کے احکام پہنچانے کا خواہ یہ تقریر کے ذریعہ ہو یا تحریر کے ذریعہ ہو، لٹریچر کے ذریعہ ہو یا کتابوں کے ذریعہ ہومگر کمیونزم تو کسی انسان کے پاس کوئی زائد روپیہ چھوڑتا ہی نہیں۔پھر ایک مذہبی ٹریکٹ کس طرح چھپوائے اور کتا بیں کس طرح ملک کے گوشہ گوشہ میں پھیلائے۔اس پابندی کا لازمی نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ مذہب کی اشاعت رُک جائے اور لامذہبیت کا دور دورہ ہو جائے۔86