اسلام کا اقتصادی نظام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 88 of 162

اسلام کا اقتصادی نظام — Page 88

2 ۳۰ یعنی قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأُوْلَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ اے مسلمانو! تم میں سے ایک جماعت پورے طور پر مذہبی نگرانی کے لئے دنیوی کاموں سے فارغ ہونی چاہئے اور اس جماعت کے افراد کا یہ کام ہونا چاہئے کہ وہ نیک باتوں کی طرف لوگوں کو بلائیں، عمدہ باتوں کی تعلیم دیں اور بُرے اخلاق سے لوگوں کو روکیں پس اسلامی تعلیم کے ماتحت ایک حصہ کلی طور پر اس غرض کے لئے وقف ہونا چاہئے۔یہ صیح بات ہے کہ اسلام زندگی وقف کرنے والوں کو کوئی خاص حقوق نہیں دیتا مگر اس سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ وہ ایک خاص کام ان کے سپرد کرتا ہے۔اسلام پادریت (PRIESTHOOD) کا قائل نہیں مگر وہ مذہبی نظام کا ضرور قائل ہے۔عیسائیت تو جن لوگوں کے سپر تبلیغ کا کام کرتی ہے ان کو دوسروں سے بعض زائد حقوق بھی دے دیتی ہے مگر اسلام کہتا ہے کہ ہم ان لوگوں کو کوئی زائد حق نہیں دیں گے جو دین کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو وقف کریں گے لیکن یہ ضرور ہے کہ زندگی وقف کرنے والے کے سپر د خاص طور پر یہ کام ہوگا کہ وہ اسلام کو پھیلائے اور تبلیغی یا تربیتی نقطۂ نگاہ سے ہر وقت اسلام کی خدمت کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا مقصد سمجھے۔اس قسم کے لوگوں کی نفی کر کے نظام اسلام کبھی باقی نہیں رہ سکتا۔آخر ایک تفصیلی آئین بغیر اس کے ماہروں اور بغیر اس کے مبلغوں کے کس طرح چل سکتا ہے۔اسلام وہ مذہب ہے جو دنیا کے تمام مذاہب میں سے سب سے زیادہ مکمل ہے اور وہ ایک وسیع اور کامل آئین اپنے اندر رکھتا ہے۔وہ عبادات کے متعلق بھی تعلیم دیتا ہے، وہ اقتصادیات کے متعلق بھی تعلیم دیتا ہے، وہ سیاسیات کے متعلق بھی تعلیم دیتا ہے، وہ آقا اور ملازمین کے حقوق کے متعلق بھی تعلیم دیتا ہے، وہ معلم اور متعلم کے متعلق 88