اسلام کا اقتصادی نظام — Page 24
فطرت میں مادہ نہیں رکھ دیا تھا؟ کیا ہم نے اُس کی فطرت میں یہ مادہ نہیں رکھا کہ یہ خدا تعالیٰ کو پانے اور اُس سے محبت پیدا کرنے کی تدابیر اختیار کرے؟ اور کیا ہم نے اُس کی فطرت میں یہ مادہ نہیں رکھا کہ یہ بنی نوع انسان سے حسن سلوک کرے؟ اگر ان تین طریقوں کو اس نے استعمال نہیں کیا اور اپنے روپیہ کو بغیر اصول کے خرچ کر دیا تو اس نے روپیہ کو خرچ نہیں کیا بلکہ اُسے تباہ کیا ہے پھر فرماتا ہے۔فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةُ باوجود اس کے کہ اُس کی آنکھیں موجود تھیں جن سے یہ غرباء کا حال دیکھ سکتا تھا۔اُس کی زبان اور اُس کے ہونٹ سلامت تھے اور یہ لوگوں سے پوچھ سکتا تھا کہ مجھے تو روپیہ کے صحیح مصرف کا علم نہیں تم ہی بتاؤ کہ روپیہ کس طرح خرچ کروں؟ اور باوجود اس کے کہ ہم نے اُس کی فطرت میں نیکی اور حسن سلوک کے مادے رکھ دیئے تھے، ہم نے خدا کی محبت اُس کی فطرت میں رکھ دی تھی اور ہم نے بنی نوع انسان سے حسن سلوک کرنے کا مادہ بھی اُس کی فطرت میں رکھ دیا تھا فَلَا اقْتَحَمَ العقبة مگر ان تمام باتوں کے باوجود وہ اس گھائی پر نہیں چڑھا اور چڑھائی پر چڑھنا اس کے لئے مشکل ہو گیا۔جیسے موٹا آدمی پہاڑ کی چوٹی پر نہیں چڑھ سکتا اور راستہ میں ہی تھک کر بیٹھ جاتا ہے۔یہ بھی گھائی کو عبور نہ کر سکا اور نام ونمود پر ہی اپنے روپیہ کو برباد کر تا رہا۔اس قسم کے بیہودہ اور لغو کاموں پر روپیہ برباد کرنے کی اور بھی کئی مثالیں ہیں۔مثلاً بعض عیاش اُمراء کنچینیوں کے ناچ پر ہزاروں روپیہ برباد کر دیتے ہیں۔بعض کو روپیہ صرف کرنے کا اور کوئی ذریعہ نظر نہیں آتا تو وہ مشاعرہ کی مجلس منعقد کر کے روپیہ ضائع کر دیتے ہیں۔اُن کے پڑوس میں ایک بیوہ عورت ساری رات اپنے بھوکے بچوں کو سینہ سے چمٹائے پڑی رہتی ہے وہ بھوک سے بلبلاتے اور چیختے چلاتے ہیں مگر اُسے اُن یتیم بچوں کو کچھ کھلانے کی توفیق نہیں ملتی اور ہزار ہزار روپیہ مشاعرہ پر بر باد کر دیتا ہے۔محض اس لئے