اسلام کا اقتصادی نظام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 23 of 162

اسلام کا اقتصادی نظام — Page 23

سلام کا اقتصادی نظام کرتا ہے اور ایک ایک دن میں سینکڑوں اونٹ ذبح کر دیتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ میں نے ملک پر بڑا احسان کیا۔فرماتا ہے کیا دنیا اندھی ہے وہ یہ نہیں سمجھتی کہ یہ سو اونٹ جو قربان کیا گیا ہے محض اس لئے ہے کہ اُسے شہرت اور عزت کی نگاہ سے دیکھا جائے۔غرباء کی ہمدردی اور اُن کی محبت کا جذبہ اُس کے دل میں کام نہیں کر رہا۔اگر واقعہ میں اس کے دل میں غریبوں کی تکالیف کا احساس ہوتا ، وہ ان کی غربت اور تکالیف کو دور کرنے کا جذبہ اپنے اندر رکھتا تو سو سو اونٹ ایک دن میں ذبح کرنے کی بجائے وہ سو دنوں میں ایک ایک اونٹ ذبح کرتا تا کہ غرباء ایک لمبے عرصے تک بھوک کی تکالیف سے بچے رہتے مگر اُس کے مد نظر تو یہ بات تھی ہی نہیں وہ تو یہی چاہتا تھا کہ پبلک میں میری شہرت ہو اور لوگ سمجھیں کہ میں بڑا امیر ہوں فرماتا ہے أَيَحْسَبُ أَنْ لَّمْ يَرَةً أَحَدٌ کیا وہ خیال کرتا ہے کہ اُسے کوئی دیکھتا نہیں، اُس کے اعمال پر کوئی نظر نہیں رکھتا؟ یہ اُس کا خیال بالکل غلط ہے۔دنیا اتنی اندھی اور بیوقوف نہیں ہے وہ جانتی ہے کہ اُس نے جو کچھ خرچ کیا بنی نوع انسان کے فائدہ کے لئے خرچ نہیں کیا بلکہ اپنے نفس کے لئے خرچ کیا ہے أَلَمْ نَجْعَل لَّهُ عَيْنَيْنِ فرماتا ہے کیا ہم نے اُسے آنکھیں نہیں دی تھیں کیا وہ نہیں دیکھتا تھا کہ ملک کا کیا حال ہے؟ غریب بھوکے مر رہے ہیں اور کوئی اُن کا پُرسانِ حال نہیں مگر یہ ایک ایک دن میں سوسو دودو سو اونٹ محض اپنی شہرت کیلئے ذبح کر دیتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ میں نے بڑا کام کیا ہے۔کیا اُس کی آنکھیں نہیں تھیں کہ وہ ملک کا حال دیکھ لیتا۔وَلِسَانًا وَشَفَتَيْنِ اور اگر اُسے آنکھوں سے اپنے ملک کا حال نظر نہیں آتا تھا تو کیا اُس کے منہ میں زبان نہیں تھی اور کیا یہ لوگوں سے نہیں پوچھ سکتا تھا کہ روپیہ کا صحیح مصرف کیا ہے اور مجھے کہاں کہاں خرچ کرنا چاہے ؟ وَهَدَيْنَاهُ النَّجْدَيْنِ پھر کیا ہم نے اُس کی دینی اور دنیوی ترقی کے لئے اُس کی 23