اسلام کا اقتصادی نظام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 25 of 162

اسلام کا اقتصادی نظام — Page 25

کہ لوگوں میں شہرت ہو کہ فلاں رئیس نے یہ مشاعرہ کروایا ہے۔فرماتا ہے یہ روپیہ کا خرچ کرنا نہیں بلکہ اُسے ضائع اور برباد کرنا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْعَقَبَةُ تمہیں کچھ معلوم ہے کہ چوٹی پر چڑھنے کا کیا مطلب ہے یعنی ہم نے جو یہ کہا ہے کہ وہ چوٹی پر نہیں چڑھا تو تم نہیں سمجھ سکے ہو گے کہ اس کا مطلب کیا ہے؟ آؤ ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ ہمارا کیا مطلب ہے۔فَكُ رَقَبَةٍ ہمارا مطلب یہ ہے کہ وہ غلام جو بنی نوع انسان کے قبضہ میں ہیں جو اپنے باپوں اور اپنی ماؤں اور اپنے بھائیوں اور اپنی بہنوں سے جدا ہیں کیا اس کے دل میں یہ کبھی خیال نہیں آیا کہ وہ ان کو آزاد کرے اور انہیں بھی آزادانہ زندگی کی فضا میں سانس لینے دے۔او إِطْعَامُ فِي يَوْمٍ ذِى مَسْغَبَةٍ یا بجائے اس کے سوسو دو دوسو اونٹ ایک ایک دن میں ذبح کرتا اور اُمراء کو ملا کر اُن کی ایک شاندار دعوت کر دیتا۔کیوں اس نے ایسا نہ کیا کہ وہ غرباء اور مساکین کو کھانا کھلاتا۔فِي يَوْمٍ ذى مَسْغَبَةٍ قحط کے دنوں میں جب کہ غرباء کو غلہ کی شدید تکلیف ہوتی ہے اور اُن میں سے اکثر فاقہ کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔یا سردی کے دنوں میں جبکہ غلہ میں کمی آجاتی ہے اُس کا فرض تھا کہ وہ غرباء کی خبر گیری کرتا ، بھوکوں کو کھانا کھلاتا ہنگوں کو کپڑے دیتا اور اس طرح اپنے مال کو جائز طور پر صحیح مقام پر خرچ کرتا مگر اُس نے ایسا تو نہ کیا اور ایک ایک دن میں سوسود ودوسو اونٹ ذبح کر کے بڑے بڑے امراء کو کھانا کھلا دیا۔محض اس لئے کہ اُس کی شہرت ہو اور لوگوں میں یہ بات مشہور ہو کہ وہ بڑا مالدار ہے يتيمًا ذَا مَقْرَبَةٍ قتیموں ہی کو کھانا کھلا دیتا بجائے اس کے کہ دعوتوں پر یہ روپیه بر باد کرتا یا جوئے بازی اور مختلف کھیل تماشوں پر اپنی دولت کو ضائع کرتا۔اگر اس کے دل میں غرباء کا سچا درد ہوتا ، اگر اس کے دل میں یتامی کی خبر گیری کا صحیح احساس ہوتا تو 25