اسلام کا اقتصادی نظام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 70 of 162

اسلام کا اقتصادی نظام — Page 70

ہوگی کہ وہ اپنے لئے اور جائداد پیدا کرے۔یورپ اور امریکہ میں بڑے بڑے مالدار اور لارڈز اسی لئے ہیں کہ انگلستان میں یہ قانون ہے کہ جائداد کا مالک صرف بڑا بیٹا ہوتا ہے۔اور امریکہ میں اجازت ہے کہ باپ اپنی جائداد چاہے تو صرف ایک بیٹے کو دے جائے باقی ماں باپ، بھائی بہنیں ، خاوند بیوی سب محروم رہتے ہیں یا ر کھے جاسکتے ہیں۔پھر بعض دفعہ وہاں بڑے بڑے مالدار یہ وصیت کر جاتے ہیں کہ ہماری دس لاکھ کی جائداد ہے اُس میں سے ایک لاکھ تو دوسرے رشتہ داروں کو دے دیا جائے اور نو لاکھ بڑے لڑے کو دے دیا جائے۔اسلام کہتا ہے کہ یہ بالکل ناجائز ہے تمہارے خاندان کی عظمت سوسائٹی کے فائدہ کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ہمیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ تمہارا خاندان ملک میں چوٹی کا خاندان ہمیشہ سمجھا جاتا ہے یا نہیں۔ہم یہ چاہتے ہیں کہ مال تقسیم در تقسیم ہوتا چلا جائے تا کہ غرباء کو بڑے بڑے سرمایہ داروں کا مقابلہ نہ کرنا پڑے اور اُن کے لئے ترقی کا راستہ دنیا میں کھلا رہے۔غرض ایک طرف اسلام نے جذبات پر قابو پایا اور ان تمام محرکات کو مسل دیا جن کے نتیجہ میں انسان یہ چاہتا ہے کہ اُس کے پاس زیادہ سے زیادہ دولت جمع ہو۔دوسری طرف اُس نے بیہودہ اخراجات کو حکماً روک دیا اور کہہ دیا کہ ہم ان اخراجات کی تمہیں اجازت نہیں دے سکتے۔تیسری طرف روپیہ جمع کرنے کے تمام طریق جن میں یقینی نفع ہوا کرتا ہے اُس نے ناجائز قرار دے دیئے۔چوتھی طرف زکوۃ اور طوعی صدقات وغیرہ کے احکام دے دیئے۔اور اگر ان سب احکام کے باوجود پھر بھی کوئی شخص اپنی ذہانت اور ہوشیاری کی وجہ سے کچھ زائد روپیہ کمالیتا ہے اور خطرہ ہے کہ اُس کا خاندان غرباء کے راستہ میں روک بن کر کھڑا ہو جائے تو شریعت اُس کے مرنے کے ساتھ ہی اُس کی تمام جائداد 70